تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 220 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 220

تقریر فرمودہ 05 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ان تین پیشگوئیوں میں سے پہلی دو پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں اور تیسری ابھی پوری ہوتی ہے۔میں نے ان کو بتایا کہ جس وقت یہ پیشگوئیاں کی گئی تھیں، اس وقت زار روس کا سیاسی دنیا میں وہی مقام تھا، جو آج امریکہ کا ہے۔یعنی دنیا میں قریبا سب سے بڑی طاقت تھا۔اگر چہ انگریز اپنے آپ کو اس کا رقیب سمجھتے تھے۔لیکن حقیقت یہی ہے کہ یورپ میں انگریزوں کی نسبت روس کا اثر زیادہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے وقت میں بتایا کہ زار روس ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا اقتدار دیا ہے، اس پر ایسی تا ہی آئے گی کہ اس کا نام ونشان مٹ جائے گا۔بعد میں دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے زار روس کی حکومت بالکل مٹا کر رکھ دیا۔اور کمیونزم کے متعلق تو قرآن مجید ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متعدد پیشگوئیاں ہیں۔کمیونزم کے متعلق جب 1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی تو کسی کے وہمہ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ کوئی ایسی سکیم دنیا میں کامیاب ہو جائے گی، جو بعد میں اشتراکیت کے نام سے دنیا میں ظاہر ہوگی۔اور بعد میں اس نے پیشگوئیوں کے مطابق تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس وقت یہ بات اسی طرح ان ہوئی تھی ، جیسے اس وقت یہ بات ان ہونی ہے کہ روس میں اسلام پھیل جائے گا۔لیکن تین باتیں اکٹھی بتائی گئی تھیں، جن میں سے دو باتیں یکے بعد دیگرے پوری ہو چکی ہیں۔اب تیسری پیشگوئی پوری ہونے والی ہے۔اس لئے تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ یہ ان ہونی بات بھی پوری ہو جائے گی۔میرا مقصد وہی تھا، جو ایک خادم کا مقصد ہوتا ہے۔جب آقا اپنے کسی خادم کو کسی کام پر لگاتا ہے تو وہ جس کی طرف بھیجا جاتا ہے، وہ اس سے ڈرتا نہیں۔کیونکہ ذمہ داروہ ہوتا ہے، جس نے اسے بھیجا ہوتا ہے۔تو بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی مداہنت کے، مجھے ان کو اچھی طرح جھنجوڑنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی۔اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی یہ توفیق دی ہے کہ وہ میری باتوں کو اپنے اخبارات میں شائع کر دیں۔اور اس طرح ان لوگوں تک پہنچائیں۔اگر چہ وہ جو کچھ لکھتے تھے، وہ ساری بات نہیں ہوتی تھی، جو چھ ہو جو کچھ تھے، وہ میں کہتا تھا۔مثلاً ایک کانفرنس ڈیڑھ گھنٹہ کی ہوتی تھی اور وہ اسے مختصر سے الفاظ میں شائع کر دیتے تھے۔کوئی اخبار کوئی بات لکھ دیتا تھا اور کوئی اخبار کوئی بات لکھ دیتا تھا۔ان ساری باتوں کا جو نتیجہ نکلتا تھا، وہ یہ تھا کہ اسلام کی طرف آؤ، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔یہ نتیجہ اور خلاصہ اخبار شائع کر دیتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کروڑوں آدمیوں تک اس احقر کی آواز کو بھی اور اس احقر کی تصویر کو بھی پہنچا دیا۔انہوں نے دیکھا بھی اور انہوں نے سنا بھی۔اور وہ کچھ سنا، جو اللہ تعالیٰ آج انہیں سنانا چاہتا تھا۔220