تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 217 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 217

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء نصیحت بھی ہوگی، ان کو تسلی بھی ہو جائے گی اور میری طبیعت بھی ایک حد تک سیر ہو جائے گی۔کچھ سیر کا پروگرام بھی بنالیا گیا تھا۔وہاں ایک مشہور قلعہ ہے، جسے دیکھنے کے لئے ہم گئے۔ہم رستہ میں گزرنے والے لوگوں کے پاس سے گزر کر کچھ دور جاتے تھے تو وہ ہمارے متعلق باتیں کرتے۔ہمارے ساتھ جیسا کہ میں نے بتایا ہے، مردوزن ملا کر وہاں کے 35 افراد تھے۔وہ جب گزرنے والوں کی باتیں سنتے تو بتاتے کہ ان لوگوں نے آپ کو پہچان لیا ہے اور اب آپ کے متعلق ہی وہ باتیں کر رہے ہیں۔ڈنمارک کی زبان میں خلیفہ کو خلیفن“ کہتے ہیں۔میرے بھائی عزیزم میاں حنیف احمد صاحب میرے ساتھ تھے۔وہ بتانے لگے کہ ہمارے پاس سے جو آدمی بھی گزرتا ہے، وہ جب چند قدم آگے جاتا ہے تو جو گفتگو وہ کرتا ہے، اس کا ایک لفظ مجھے سمجھ آتا ہے اور وہ خلیف“ ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ آپ کے متعلق ہی بات کر رہا ہے۔ایک چھوٹا سا بچہ تھا، اس نے ہماری تصویریں لینی شروع کیں۔وہ ہمارے ساتھ ہو لیا اور جب ہم موٹروں سے اترے تو اس نے ہماری تصویریں لیں۔سیر کے بعد میں اس کی طرف چلا گیا اور میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے ہماری کتنی تصویریں لی ہیں ؟ تو کہنے لگا، بارہ۔اب دیکھو، ایک بچہ کے دل میں کسی ہستی نے یہ چیز پیدا کر دی تھی کہ وہ ہم سے تعلق رکھے اور ہم سے محبت کا اظہار کرے؟ سینکڑوں نہیں ہزاروں کیمرے تھے ، جنہوں نے ہماری تصویریں لیں۔میرا خیال ہے کہ شاید سارے سفر کے دوران پچاس ہزار سے زیادہ کیمروں نے ہماری تصاویر لی ہوں گی۔لوگ اپنے کام بھول کر، اپنی سیر بھول کر ہماری طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔ان سب لوگوں کے کان میں جو آواز میں نے ڈالی ، وہ یہ تھی کہ Come back to your creator) یعنی اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو تم اپنے خدا کو بھول گئے ہو اور اپنی تباہی کے سامان کر رہے ہو۔اگر تم خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرو گے تو ہلاکت تمہارے سامنے ہے۔میں نے ایک نوٹ یہاں تیار کیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ نوٹ میں نے تیار کیا تھا بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے وہ نوٹ تیار کروایا تھا۔کیونکہ اس کا اکثر حصہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی لکھا جار ہا تھا۔بعض فقروں کے متعلق تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ مضمون میرے ذہن میں نہیں تھا، جو لکھا گیا۔میں ایک فقرہ لکھتا تو اگلا فقرہ خود قلم لکھے جاتی تھی۔اس مضمون میں بڑا زور ہے۔چونکہ میں اپنے رب کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتا، اس لئے ان لوگوں کا کوئی خوف میرے دل میں نہیں تھا۔میں سچی بات کہنا چاہتا تھا اور کھل کر کہنا چاہتا تھا۔یورپ کے مبلغین سے میں نے اس نوٹ کا ذکر کیا تو ان سب نے کہا کہ آپ یورپ میں یہ مضمون نہ پڑھیں۔ممکن ہے بعض لوگ اس کو برا منائیں اور 217