تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 209 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 209

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء اللہ تعالیٰ کے سوا سب بتوں کو توڑ کر دل سے باہر پھینک دیں تقریر فرمودہ 05 ستمبر 1967ء حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی سفر یورپ سے کامیاب مراجعت پر لوکل انجمن احمد بی ربوہ کی طرف سے حضور کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔اس موقع پر حضور نے درج ذیل اہم تقریر فرمائی۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس وقت جو ایڈریس پڑھا گیا ہے، اس میں ایک تو اس تعلق واخوت وعقیدت کا اظہار ہے، جو خدائی جماعتیں اپنے امام سے رکھتی ہیں۔اور دوسری طرف اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ خداوہ دن جلد تر لائے ، جب ساری دنیا میں اسلام غالب آ جائے۔اور ہر دل خدائے واحد پر ایمان لانے والا اور اس کی حمد کرنے والا بن جائے اور ہر دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جاگزیں ہو جائے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو امام مقرر کیا جاتا ہے، اس کے دل میں جماعت کی اور سلسلہ کی محبت پیدا کی جاتی ہے۔ایسے رنگ میں کہ دنیا کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔اور جماعت کے دلوں میں اس کے لئے محبت پیدا کر دی جاتی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا نظارہ میں نے ربوہ سے لنڈن تک اور لنڈن سے واپس ربوہ تک اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔میر اسفرر بوہ سے شروع ہوا۔مختلف اسٹیشنوں پر جماعت کے احباب (مردوزن) مجھے ملے۔کراچی سے ہم روانہ ہوئے۔پہلے جہاز طہران (ایران) کے ہوائی اڈہ پر اترا۔وہاں بھی کچھ احمدی دوست موجود تھے، جن سے مل کر انتہائی خوشی ہوئی۔پھر ہم ماسکو کے ہوائی اڈے پر اترے، جہاں ابھی تک کوئی احمدی ایسا نہیں تھا، جو وہاں ملنے کے لئے آیا ہوتا۔اس کے بعد فرینکفورٹ (جرمنی) کے ہوائی اڈہ پر جہاز اترا۔وہاں اپنی مسجد بھی ہے ، مشن ہاؤس بھی ہے، مبلغ بھی ہے۔چنانچہ ہوائی اڈہ پر پاکستانی احمدی بھی موجود تھے اور جرمن احمد کی بھی موجود تھے۔ان کے چہروں پر جب میری نظر پڑی تو ( بلا امتیاز پاکستانی بھی اور وہاں کے رہنے والے بھی) ان کی آنکھوں سے محبت کے دریا چھلکتے مجھے نظر آئے۔اور ان کے لئے میرے دل کی جو کیفیت تھی، اس کا بیان کرنا، میرے لئے ناممکن ہے۔پھر ہم 209