تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 205
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء ہے اور مجھے بڑی پریشانی لاحق ہو جاتی ہے۔کیونکہ اس دور میں اگر کسی انسان پر باقی سب انسانوں کو ہلاکت اور تباہی سے بچانے کی ذمہ داری پڑتی ہے تو وہ ہم ہیں۔اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا نہ کریں تو ایک طرف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے ہوں گے اور دوسری طرف ہم ذمہ دار بن جائیں گے ، ان قوموں کی ہلاکت کے۔کیونکہ جوان سے تعلق رکھنے والی ہماری ذمہ داریاں تھیں، وہ ہم نے پوری نہیں کیں۔حقیقت یہ ہے (اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو میں اس حقیقت کو دہرا تا چلا جاؤں گا۔جب تک کہ میں اپنے مقصد کو حاصل نہ کرلوں یا اس دنیا سے گذرنہ جاؤں ) کہ ہر احمدی کو دنیا کا رہبر اور قائد اور استاد بننے کی اپنے اندر اہلیت پیدا کرنی پڑے گی۔اور پیدا کرنی چاہئے۔کیونکہ آج بھی دنیا کو ان سے کہیں زیادہ تعداد میں استادوں اور مبلغین کی ضرورت ہے، جو آج ہمارے پاس ہیں۔لیکن وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب اس ضرورت کی ہماری موجودہ اہمیت کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہ ہوگی۔بلکہ دنیا لاکھوں آدمی مانگے گی۔دنیا جماعت احمدیہ سے یہ کہے گی کہ ہم سیکھنے کے لئے تیار ہیں، تم ہمیں آ کر سکھاتے کیوں نہیں؟ کیا جواب ہوگا ، آپ کے پاس اگر آپ ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے؟ پس میں نے غور بھی کیا ، میں نے دعا ئیں بھی کیں اس کے متعلق اور اللہ تعالیٰ نے بڑے زور سے میرے دل میں ڈالا ہے کہ اگلے ہیں، تمیں سال دنیا پر ، انسانیت پر اور جماعت پر بڑے نازک ہیں۔ایک نہایت ہی خطرناک عالمگیر تباہی کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاتا دی ہے۔جس کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ اگر وہ تباہی دنیا پر آ گئی تو دنیا میں علاقے کے بعد علاقہ ایسا ہوگا کہ جہاں سے زندگی ختم ہو جائے گی۔پہلی دو عالمگیر جنگوں میں ، نہ ایسا ہوا، نہ ایسا ہو ناممکن تھا۔کچھ آدمی مارے گئے ، کچھ پرندے بھی مارے گئے ہوں گے ، کچھ چرندے بھی مارے گئے ہوں گے، کچھ کیڑے مکوڑے بھی مارے گئے ہوں گے۔لیکن کوئی ایک علاقہ ایسا نہیں ہو سکتا تھا، جہاں سے زندگی ختم ہوگئی ہو۔(سوائے دو استثناء کے ، جو جاپان پر دو ایٹم بم گرانے کے ہیں۔لیکن تیسری عالمگیر تباہی کے متعلق یہ پیشگوئی واضح الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں موجود ہے کہ ایسے علاقے ہوں گے کہ جن میں زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔پھر یہ بھی پیشگوئی ہے کہ اس عظیم ہلاکت کے بعد (اگر اس ہلاکت سے قبل یہ اقوام اسلام کی طرف اور اپنے پیدا کرنے والے اللہ کی طرف نہ آ گئیں ) اسلام بڑی کثرت سے دنیا میں پھیل جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ نظارہ دکھایا گیا۔آپ نے دیکھا کہ روس میں اس قدر احمدی ہیں، جس قدر کہ ریت کے ذرے ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ریت کے ذروں کی طرح میں نے وہاں 205