تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 194 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 194

خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دوستوں کو سناؤں، میں یہ بھی آج بیان کرنا چاہتا ہوں کہ سفر پر روانگی سے چند روز قبل ایک دن صبح کے وقت جب میں اٹھا تو میری زبان پر یہ مصرعہ جاری ہوا۔تشنہ روحوں کو پلا دو شربت وصل و بقا یہ مصرعہ بطور طرح مصرعہ کے میں نے محترمہ مخدومہ پھوپھی جان صاحبہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو دیا تھا اور انہوں نے ایک آدھ شعر بھی کہا ہے۔نظم تو مکمل نہیں کر سکیں (یہ نظم اب الفضل کے ایک شمارہ میں شائع ہو چکی ہے۔لیکن بعض اور احمدی شاعروں نے اس مصرعہ کو سامنے رکھ کر بعض نظمیں بھی لکھی ہیں۔بعض چھپ گئی ہیں، بعض شاید آئندہ الفضل میں چھپ جائیں۔اس میں بھی در اصل اجازت دی گئی تھی ، اس سفر پر روانہ ہونے کی۔اور اس ضرورت کا احساس پیدا کیا گیا تھا کہ اقوام یورپ روحانی طور پر پیاسی ہیں اور انہیں قرآن کریم کے چشمہ سے سیراب ہونے کی ضرورت ہے۔اس وقت اس کے بغیر نہ وہ اقوام اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کر سکتی ہیں اور نہ اس دنیا میں باقی رہ سکتی ہیں۔اور جو غرض اس سفر سے تھی ، اس کی تفصیل کی طرف اشارہ اس چھوٹے سے مصرع میں کیا گیا تھا۔سفر پر روانہ ہونے سے قبل ہماری بڑی پھوپھی جان نے لاہور میں یہ خواب دیکھی، جو انہی دنوں انہوں نے اپنے خط میں لکھ کر بھجوائی تھی۔میں وہ آج سنانا چاہتا ہوں۔حضرت پھوپھی جان صاحبہ نے عزیز مکرم مرزا مظفر احمد صاحب کے متعلق بھی ایک مندرسی خواب دیکھی تھی۔اور ان کے لئے مجھے بھی لکھا تھا دعا کے لئے اور خود بہت دعا کر رہی تھیں۔آپ لکھتی ہیں کہ " آج صبح نماز کے بعد (جس میں خصوصی دعاز یادہ تر ہمیشہ کی طرح آپ کے لئے اور سفر کے لئے تھی۔اور مظفر احمد یا جو بلا ہو کسی کی بھی ہو، اس کے رفع ہونے کے لئے ہی زیادہ تر کی۔) سوگئی تو آنکھ کھلنے کے قریب عربی میں آواز کسی کی آ رہی ہے۔جیسے کوئی خوش الحان قرآن شریف پڑھتا ہے۔مگر اثر یہ ہے کہ جیسے کسی کو مخاطب کر کے کوئی بات کرتا ہے۔بہت صاف آواز ہے۔صرف زبان عربی میں کلمات ادا ہورہے ہیں۔یعنی کسی سورۃ قرآن مجید کا خیال نہیں تھا۔مجھے وہ الفاظ ، جو یا درہ گئے تھے، وہ یہ تھے، الَّذِيْنَ يَدْعُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ الَّذِینَ سے پہلے کیا تھا؟ یہ مجھے کچھ یاد نہیں۔اس کے بعد کے الفاظ کا بھی بہت مبارک اور مبشر ہونے کا اثر تھا۔مگر یاد نہیں رہا۔صرف وہی جو میں اپنی زبان سے ساتھ ساتھ کہہ رہی تھی ، یاد ہے۔بس یہی الفاظ زبان پر 194