تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 193

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء اگلے ہیں، ہمیں سال دنیا یر، انسانیت پیر اور جماعت پر بڑے نازک ہیں خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔گذشته خطبہ جمعہ میں، میں نے بتایا تھا کہ ایک خواب کی بناء پر میں چندر و یا احباب کی خدمت میں رکھنا چاہتا ہوں۔آج بھی میں اپنے اس خطبہ کو چند خوابوں اور رویا سے شروع کرنا چاہتا ہوں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیسیوں مبشر خواہیں، میرے سفر یورپ کے دوران اور واپسی کے بعد بھی، دوستوں نے مجھے لکھی ہیں۔مردوں نے بھی خواہیں دیکھی ہیں اور ہماری احمدی بہنوں نے بھی خواہیں دیکھی ہیں۔بڑوں نے بھی دیکھی ہیں اور بچوں نے بھی دیکھی ہیں۔کہا گیا تھا کہ اس زمانہ میں بچے بھی نبوت کریں گے۔یعنی خبریں اللہ تعالیٰ سے حاصل کریں گے، جو سچی ہوں گی اور جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اور طاقت کا اظہار ہوگا۔آج کے لئے میں نے تین خوابوں کا انتخاب کیا ہے۔اور یہ تینوں خوا ہیں عورتوں کی ہیں۔ایک خواب میری بزرگ کی ہے، ایک میری بیوی کی ، ایک میری بچی کی ہے۔اصل غرض اس سفر کی کوپن ہیگن کی مسجد کا افتتاح تھا۔اور اس افتتاح سے میں یہ فائدہ اٹھانا چاہتا تھا کہ ان اقوام کے سامنے اللہ تعالیٰ کی اس مشیت کو کھول کر اور وضاحت سے رکھ دیا جائے کہ اسلام کے غلبہ کے سامان آسمانوں پر مقدر ہو چکے ہیں اور زمین پر ظاہر ہونے والے ہیں۔اور اگر ان اقوام نے اللہ تعالیٰ کے اس منشاء کو نہ سمجھا تو پھر ایک ایسی ہلاکت ان کے سروں پر منڈلا رہی ہے کہ جو انسانی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔لیکن چونکہ وجہ اس سفر کی کوپن ہیگن کی مسجد کا افتتاح بن گیا تھا اور اس مسجد کو احمدی مستورات کی مالی قربانیوں نے بنایا تھا، اس لئے آج کے لئے میں نے مستورات کی خوابوں میں سے تین کا انتخاب کیا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ مکرمہ مخدومہ محترمہ آپا مریم صدیقہ صاحبہ آج کل یہاں نہیں ہیں، انہوں نے ایک بڑی مبشر خواب دیکھی تھی لیکن زبانی مجھے سنائی تھی۔ہو سکتا ہے کہ بعض حصے چھوڑ جاؤں، اس لئے میں نے ان کی اس خواب کا آج کے خطبہ کے لئے انتخاب نہیں کیا۔لیکن قبل اس کے کہ میں یہ تین رویا آ۔193