تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 175
خطبہ جمعہ فرموده 125 اگست 1967ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم ہونے والی تھی۔اور شاید اس وقت دنیا کے اس حصہ میں پوری ہورہی تھی ، جس کے متعلق وہ خبر دی گئی تھی۔اسی طرح وہ میرے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی تقویت ایمان اور تسکین قلب کا موجب ہوئی۔وہ خواب کیا تھی اور وہ تعبیر کیا تھی ، جو مجھے بتائی گئی؟ وہ ایک خاص مصلحت کے ماتحت میں اس وقت نہیں بتا رہا۔ویسے وہاں بھی اور یہاں بھی میں نے بعض دوستوں کو وہ خواب اور تعبیر بتادی ہے۔وه اسی طرح کوپن ہیگن میں صبح نماز سے پہلے جاگتے ہوئے ( گو آنکھیں میری بند تھیں) میں نے ایک نظارہ دیکھا۔وہ نظارہ اپنی ذات میں غیر معمولی نہیں۔لیکن اس کا جواثر تھا، وہ بڑا عجیب اور غیر معمولی تھا کہ دل و دماغ اور جسم کے روئیں روئیں سے سرور اور حمد کے چشمے پھوٹنے لگ گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر جو کیفیت ایک مومن کی ہوتی ہے، ( وہ عجیب رنگ میں کچھ جذباتی بھی ہوتی ہے اور کچھ مجذوبانہ بھی۔وہاں عقل کو کوئی دخل نہیں ہوتا محبت اور پیار کو دخل ہوتا ہے۔) پیدا ہوگئی۔نظارہ تو میں نے صرف یہ دیکھا کہ میں ایک مسجد میں ہوں اور محراب سے تین صفیں پیچھے کھڑا ہوں یعنی تیسری صف میں۔اور گویا میں انتظار کر رہا ہوں کہ نمازی آئیں تو میں نماز پڑھاؤں۔میں نے دیکھا کہ دائیں طرف سے دیوار کے ساتھ ساتھ ایک دوست جن کا نام عبدالرحمن ہے، مسجد میں داخل ہوئے ہیں۔چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کرتے ہی سیدھے چلے آرہے ہیں اور دیوار کے ساتھ ساتھ پہلی صف کی طرف خراماں خراماں چل رہے ہیں۔(پہلی صف میں اس وقت صرف دو، تین آدمی ہیں۔) میرے سامنے ان کے چہرہ کا بایاں حصہ آیا ہے اور عجیب بشاشت اور مسکراہٹ ان کے چہرہ پر پھیل رہی ہے۔اور اس کو دیکھ کر میرے دل میں بھی عجیب سرور پیدا ہوا۔میرے پیچھے ایک شخص کھڑا ہے، جس کا نام بشیر ہے۔لیکن میں نے اسے نہیں دیکھا۔میں نے یہ خواب اس وقت کسی کو بتائی نہیں تھی۔لیکن اس روز مبلغین کی کا نفرنس تھی۔شام کو چار بجے کے قریب تبادلہ خیالات اور رپورٹوں کے بعد بعض تجاویز زیر غور آئیں۔آخر میں، میں نے کچھ نصائح کرنی تھیں، اس وقت میں نے انہیں بتایا کہ آج صبح میرے ساتھ اللہ تعالیٰ نے پیار کا یہ سلوک کیا ہے اور سرور کی یہ روحانی کیفیت میرے اندر اب بھی موجود ہے۔اس پر چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کہنے لگے کہ میں نے اور بشیر احمد صاحب آرچرڈ نے گیارہ بجے یہ باتیں کی تھیں کہ کوئی بات ضرور ہے۔حضور دہ نہیں، جو روز ہوا کرتے تھے۔تو گویا اس وقت وہ بھی ایک روحانی کیفیت محسوس کر رہے تھے اور میں اس وقت بھی سرور محسوس کر رہا تھا۔گیارہ بجے کے قریب پندرہ منٹ کے لئے ہم نے کانفرنس کو بند کر دیا تھا کہ مبلغین ایک ایک پیالی چائے پی لیں کیونکہ وہاں لوگوں کو اس وقت ایک پیالی چائے پینے کی عادت ہے۔اور بشیر احمد آرچرڈ انگریز ہیں اور سکاٹ لینڈ میں ہمارے مبلغ ہیں۔175