تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 163

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 12 اگست 1967ء ہم تردید لکھتے ہیں لیکن یہ شائع نہیں کرتا۔جب وہاں گئے تو پریس کانفرنس میں اس اخبار کا نمائندہ بھی آیا ہوا تھا۔جو ایک نوجوان تھا۔باتیں ہوتی رہیں، مختلف سوال ان لوگوں نے کیسے۔ہم نے جواب دیئے۔بعد میں بھی وہ مجھ سے باتیں کرتا رہا۔آخر میں کہنے لگا کہ مجھے یہ بتائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے، خودی جواب سکھاتا ہے۔اس وقت فورا ہی میرے دماغ الصلوة و میں یہ جواب آیا۔میں نے کہا، میں اپنے الفاظ میں تمہیں کیا بتاؤں، میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں تمہیں بتاتا ہوں۔آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ میں دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑنے آیا ہوں، جس صلیب نے مسیح کی ہڈیوں کو توڑا اور جسم کو زخمی کیا۔اچھل پڑا وہ اور کہنے لگا، مجھے حوالہ چاہیے۔یہ لوگ تو حوالہ مانگتے ہیں۔فوراً خدا کا کرنا کیا ہوا کہ میرے نوٹوں میں یہ حوالہ بھی تھا۔میں نے چوہدری محمد علی صاحب ( جو پرائیویٹ سیکرٹری ہیں آج کل ) سے کہا کہ وہ میرے نوٹ لیے آئیں۔میں نے مختلف حوالے ویسے ہی جمع کیے تھے اور ساتھ لے آیا تھا کہ شاید کام آجائیں۔اس کا ترجمہ اس کو دکھایا۔اس نے ان کو نوٹ کیا۔پھر اسلام کے متعلق ، جماعت کے متعلق مسجد کے متعلق ، میرے متعلق اس نے اپنے اخبار میں لکھا۔اور ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بعثت کی جو غرض بیان کی ہے ، وہ بھی لکھ دی۔انہی الفاظ میں، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے تھے کہ میں اس صلیب کو دلائل کے ساتھ توڑنے آیا ہوں، جس نے مسیح کی ہڈیوں کو تو ڑا اور جسم کو زخمی کیا۔اسی طرح ہیمبرگ میں چار اخبار چھپتے ہیں، جن میں سے ایک اخبار سارے جرمنی میں چوٹی کے دو اخباروں میں سے ایک ہے۔بڑی بڑی تصویر میں دے کر انہوں نے خبر میں شائع کیں۔اس پر سب یہ پوچھتے تھے اور بڑی حیرانی سے پوچھتے تھے کہ اچھا تو آپ یورپ کو مسلمان بنانے کی امید رکھتے ہیں؟ کیسے بنا ئیں گے آپ ؟ میں نے جواب دیا کے ہم تمہارے دلوں کو فتح کرلیں گے اور اس طرح تمہیں مسلمان بنا لیں گے کیونکہ اسلام امن کا مذہب ہے۔جنگ سے نہیں تمہیں ہم مسلمان بنا ئیں گے۔ہم تو آپ کے دلوں کو فتح کریں گے، یہ مقدر ہے اور تباہی بھی مقدر ہے۔یا تو تم پہلے مسلمان ہو جاؤ ، اگر تباہی سے بچنا چاہتے ہو۔اور اگر نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے قہر کا ایسا کوڑا تم پر نازل ہوگا، جو تمہیں ملیا میٹ کر دے گا۔اکثریت تمہاری آبادی کی ماری جائے گی تمہارا زور ٹوٹ جائے گا، تمہاری انڈسٹری تباہ ہو جائے گی ، فوجی طاقت جو ہے تمہاری ، وہ تباہ ہو جائے گی۔اور جو بچ جائیں گے تم میں سے، وہ اسلام لیے آئیں گے۔اللہ تعالیٰ کے یہ وعدہ ہے، جو پورا ہوگا۔انہوں نے یہ ساری خبریں دیں۔ٹیلیویژن کے اوپر ساٹھ ، ستر لاکھ آدمیوں نے میرا انٹرویود دیکھا۔بعد میں ہیمبرگ میں ہمارے لیے باہر جانا مشکل ہو گیا۔دکانوں پر کوئی 163