تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 164
اقتباس از خطاب فرموده 12 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دکاندار اخبار میں چھپی ہوئی تصویر لا کر منہ کے سامنے رکھ دیتا اور اس طرح یہ بتا تا کہ ہم پہچانتے ہیں آپ کو۔جہاں تک نظر جاتی سڑک کے اوپر ہزاروں آدمی کھڑے ہو جاتے تھے، ہمیں دیکھنے کے لیے۔سینکڑوں کیمرے نکل آتے تھے۔پتہ نہیں کتنی تصویریں کھنچی گئی۔اسلام کا یہ بڑا تعارف ہے، مگر ہے ابتدائی۔اس کو آخری فتح نہیں کہہ سکتے۔نہ یہ سوچنا چاہیے۔لیکن اس وقت تک ان لوگوں کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ کوئی وارنگ آسمان سے نازل ہو چکی ہے۔تو اتمام حجت ہو گیا ، ان کو پتہ لگ گیا ، اخباروں نے شائع کر دیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ یا تو تم اپنے creator کی طرف ، اپنے پیدا کرنے والے کی طرف واپس آؤ اور اس کی اطاعت کر دیا تم تباہ ہو جاؤ گے۔تو یہ اتمام حجت ہو گیا نہ۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان قوموں کو تو فیق عطا کرے کہ وہ تباہی سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیں اور تباہی سے بچ جائیں۔یہ یقین ہے ہمیں ، اسی طرح یقین ہے جس طرح ہمیں یہ یقین ہے، اس وقت سورج چڑھا ہوا ہے۔جس طرح ہمیں یہ یقین ہے، اس وقت لجنہ کا ایک اجلاس ہو رہا ہے۔جس طرح ہمیں یہ یقین ہے کہ اس اجلاس میں ، میں آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔اسی طرح ہمیں یہ یقین ہے کہ یہ وعدے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ہمیں فکر یہ ہے بلکہ مجھے یہ کہنا چاہئے کہ مجھے دو فکریں ہیں۔ایک یہ کہ اگر یہ قومیں جلد ایمان نہ لائیں تو تباہ ہو جائیں گی۔اور انسانی ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کے قہر سے یہ محفوظ رہیں۔دوسرے مجھے بڑی شدید فکر ہے، اپنے بھائیوں اور بہنوں کے متعلق کہ وقت آگیا ہے، انتہائی قربانیاں دے کر انتہائی فضلوں کو حاصل کرنے کا۔اگر ہم نے سستی کی تو پھر ہم ان فضلوں اور انعاموں سے محروم ہو جائیں گے۔میرے پاس تو کوئی طاقت نہیں ہے۔میں ہر نماز میں آپ لوگوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور اسلام کے غلبہ، اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے قیام کا سامان پیدا کرے۔جو میری طاقت میں ہے وہ یعنی اپنی دعائیں اکثر میں دیتارہتا ہوں۔آپ بھی دعا ئیں کریں۔اپنے لئے بھی اور یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری دعاؤں کو قبول کرے۔اور آپ کے دلوں میں یہ احساس پیدا کرے کہ یہ وقت آرام کا نہیں ، آرام کھونے کا وقت ہے۔اگر ہمیں آرام حاصل کرنا ہے تو ہمیں اپنے آراموں کو اس وقت قربان کرنا پڑے گا۔پھر اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی دی تو وہ ہمیں اس دنیا میں جائز آرام بھی دے گا اور ہماری نسلوں کو بھی اس دنیا کی جائز نعمتیں عطا کرے گا۔اور وہ دے گا، جو پہلوں کو نہیں ملا۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اور جو دوسری دنیا کے انعام ہیں، ان کے متعلق ہم سوچ ہی 164