تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 162
اقتباس از خطاب فرموده 12 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کو بتائیں کے اسلام کی کیسی حسین اور خوبصورت تعلیم ہے۔اور پھر ہے بھی مفید۔پھر اس کے نتیجہ میں ہمارا تعلق اپنے رب سے ہو جاتا ہے۔پھر وہ، جو اپنی زندگی میں اپنے رب کے فضلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں ، وہ اپنی جگہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔خدا کی ہستی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی نہیں مل سکتا۔اب وہاں سے جب میں چلا ہوں، دس دن پہلے تک قریباً انشراح بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ سفر کروں یا نہ کروں۔دعا کر رہا تھا تو ایک دن میں نے خواب دیکھی، جس کے نتیجہ میں میرا انشراح صدر ہو گیا اور میں نے یہ کہہ دیا ( بڑا تنگ وقت تھا ویسے ) کہ ہاں تیاری کر لو۔خواب میں، میں نے دیکھا کے قلعے کی دیوار ہے کئی سوفٹ۔اور جہاں جا کے ہمیں بٹھایا گیا ہے، وہ ایک اونچی سی جگہ ہے۔اس کے اوپر ایک کوچ بچھا ہوا ہے۔کئی آدمی وہاں جمع ہیں۔اور وہاں مجھے اور منصورہ بیگم کو جا کر بٹھانے والوں نے بٹھایا ہے۔اس وقت تک ہماری پیٹھ تھی ، اس دیوار کی طرف۔لیکن جب ہم بیٹھے ہیں تو دیکھا کہ سامنے دیوار اس قدر خوبصورتی سے سجائی گئی ہے کہ کوئی انسانی ہاتھ اتنی خوبصورتی سے کہیں بھی سجاوٹ نہیں کر سکتا۔اور وہاں کچھ پھول سے بنے ہوئے ہیں، جو بعد میں مجھے غور کرنے سے پتہ چلا کہ پھول نہیں ، کچھ اشعار ہیں۔اور اس دیوار کے ذرے ذرے سے مختلف رنگوں کی روشنیاں پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہی ہیں۔کوئی ٹیوب نہیں ہے، کوئی بلب نہیں ہے۔لیکن محسوس یوں ہوتا ہے، جیسے دیوار میں سے روشنی نکل رہی ہے۔اتنا خوبصورت تھا وہ منظر کہ لمبا عرصہ خواب میں، میں اس خوبصورتی میں کھویا رہا۔اور اس کے بعد پھر میں نے جب غور کرنا شروع کیا تو دیکھا کہ اس کے وسط میں گیٹ پر جیسے اونچا سا کوئی مینارہ ہے۔پچاس، ساٹھ فٹ اونچا مینارہ اور کوئی پچاس فٹ چوڑی دیوار۔اس کے وسط میں موٹے حروف میں اس روشنی کے ساتھ ہی لکھا ہوا ہے۔أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ خواب کی اور بہت لمبی تفصیل ہے جس میں، میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔مجھے دراصل یہ سبق دیا، اللہ تعالیٰ نے کہ اصل منبع ساری طاقتوں کا، ساری عزتوں کا ، ساری حفاظتوں کا، ساری کامیابیوں کا تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا جب وعدہ ہو کہ میں تمہارے لیے کافی ہوں تو پھر اپنی کم مائیگی یا اپنی کمزوریوں کو نہیں دیکھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے ، اس سے دعائیں کرتے ہوئے ، سفر کو اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا۔لوگوں نے غیر معمولی طور پر ہم سے تعاون کیا۔زیورک میں ایک اخبار نکلتا ہے ، وہ ہمیشہ اسلام کے خلاف لکھتا تھا اور کبھی بھی اس کی تردید شائع نہیں کرتا تھا۔ہمارے مشتاق احمد صاحب باجوہ کہتے تھے۔162