تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 137
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جون 1967ء سفر پر جانے کی توفیق ملے۔اور جب میں جاؤں تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ وہ پیغام، جو حقیقتاً خدا کا پیغام ہے، جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لے کے آئے ، جسے دنیا بھول چکی تھی اور اب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل کی حیثیت سے دنیا پر ظاہر ہوئے ، وہ پیغام دنیا کو پہنچایا۔اسی غرض سے آپ کی بعثت ہوئی۔تو یہ پیغام صحیح طور پر اور ایسے رنگ میں کہ وہ قومیں پیغام کو سمجھے لگیں ، ان تک پہنچانا ، اس سفر کی غرض ہے۔اور یہی ایک مقصد ہے۔تو اللہ تعالیٰ اگر توفیق دے تو ایسے رنگ میں ان کو پیغام پہنچا دیا جائے کہ ان پر اتمام حجت ہو جائے۔کیونکہ جب تک کسی قوم پر اتمام حجت نہ ہو، وہ انذاری پیشگوئیاں پوری نہیں ہوا کرتیں ، جوان کے انکار کی وجہ سے ان کے حق میں خدا تعالیٰ نے قبل از وقت اپنے رسول کو دی ہوں۔تو خدا کرے کہ وہ انذار، وہ تنبیہ، وہ جھنجھوڑ نا میرے لئے ممکن ہو جائے۔یعن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا پہنچا نا صحیح رنگ میں اور موثر طریق پر ممکن ہو جائے۔تا کہ یا تو وہ اسلام کی طرف مائل ہوں، ایک خدا کو مانے لگیں ، تو حید کو پہنچانے لگیں، اللہ تعالیٰ کو ایک اپنی ذات میں اور ایک اپنی صفات میں سمجھنے لگیں، جس رنگ میں کہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور یا پھر ایسے رنگ میں ان پر اتمام حجت ہو جائے کہ وہ انذاری پیشگوئیاں ، جن کو پڑھ کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور جن کا تعلق تمام منکرین اسلام سے ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی ہیں، وہ اتمام حجت کے بعد ان کے حق میں پوری ہوں۔تا اسلام اور مذاہب عالم کے درمیان جو فیصلہ ہونا مقدر ہے، وہ جلد ہو جائے۔اور دنیا یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت کے سائے میں آ کر بچ جائے یا خدائی قہر کی تپش میں جا کر ہلاک ہو جائے اور اس قضیہ کا فیصلہ ہماری زندگی میں ہی ہو جائے کہ اسلام ہی سچا مذ ہب ہے۔پھر میں تاکیدا کہتا ہوں کہ ان دنوں میں دوست دعائیں کریں، اس سفر کے بابرکت ہونے کے لئے اور اسلام کے غلبہ کے لئے اور توحید باری کے قیام کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے ان قوموں پر ظاہر ہونے کے لئے اور اس بات کے لئے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اصلاح کا موقع دے اور ان پر فضل کرتے ہوئے ، انہیں اس بات کی توفیق دے کہ وہ اسے اور اس کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے لگیں۔( مطبوعه بروز نامہ الفضل 02 جولائی 1967ء) 137