تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 109
اقتباس از تقریر فرموده 25 مارچ 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم - کے مبلغ ، جو بیرونی ممالک سے تبلیغ کا معین عرصہ پورا کرنے کے بعد آتے ہیں، وہ سارے کے سارے صدرانجمن کو دے دیئے جائیں۔پھر اگر ضرورت پیش آئے اور جب ضرورت پیش آئے تو تحریک جدیدان میں سے جس کو چاہے، واپس بلا لے۔اب بھلا فنانس سٹینڈنگ کمیٹی کا اس معاملہ کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ پھر اس نے نہ تو وکالت تبشیر سے اس کے متعلق مشورہ کیا اور نہ ہی ناظر صاحب اصلاح وارشاد سے مشورہ لیا۔بلکہ خود ہی یہ سفارش صدر انجمن احمدیہ کو بھجوا دی۔پھر انہوں نے یہ معلوم کرنے کی بھی ضرورت نہیں کبھی کہ کیا خلیفہ وقت کے ذہن میں تو کوئی سکیم نہیں ہے؟ اس وقت حالات یہ ہیں کہ بیرونی ممالک میں ہمیں مبلغوں کی ضرورت ہے۔اور ہمارے پاس مبلغ کافی نہیں۔اس لئے ہمارا پرانا طریق کہ مبلغ تین سال باہر کام کریں اور تین سال یہاں مرکز میں ر ہیں، چل نہیں سکتا۔کیونکہ ہمارے پاس اور مربی ہوں تو انہیں ان کی جگہ بھجوایا جائے۔اور ہمارے پاس اور مربی نہیں۔اب میں آہستہ آہستہ ایک، ایک مربی کو بلا کر یہ کہہ رہا ہوں کہ اس وقت خدا تعالیٰ کو تمہاری ضرورت ہے، اس لئے تم تین سال تک یہاں رہنے کی بجائے چھ ، سات ماہ کے بعد واپس چلے جاؤ۔اور ہر ایک مربی نے ، جس سے میں نے بات کی ہے، بڑی بشاشت کے ساتھ کہا کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں، اس لئے اگر آپ آج کہیں تو ہم آج واپس چلے جائیں گے۔غرض اب سلسلہ کو، جماعت کو اور اسلام کو اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ تعداد میں مربی باہر بھیجیں۔تا اسلام کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہو سکے اور غلبہ اسلام کے دن جلدی آسکیں۔فنانس سٹینڈ ینگ کمیٹی کے ممبران نے ان میں سے کسی بات کو نہیں سوچا اور یہ تجویز پیش کر دی کہ تحریک جدید کے باہر سے آئے ہوئے، تمام مبلغ صدرانجمن احمدیہ کو دے دیئے جائیں اور جب ان میں سے کسی کو باہر بھیجنے کی ضرورت ہوتو تحریک جدید اسے واپس بلا لے۔اس بات کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کمیٹی کے ممبران میں سنتی آگئی ہے۔اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ میں سے ہر ایک اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ انہیں اپنے کام کی طرف توجہ نہیں۔جو چیز سامنے آئی یا کسی نے کوئی بات کہہ دی، اس پر بغیر سوچے سمجھے رائے دے دی“۔یا رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ 25 تا 27 مارچ 1966ء) 109