تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 92

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1966 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ایڈا ئیں اس چھوٹے سے گروہ کو دیں کہ دنیا کے تختہ پر دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا اور گروہ نہیں ہے کہ جس کو اتنا لمبا عرصہ اس قسم کی شدید تکالیف اور ایذاؤں میں سے گزرنا پڑا ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان ایک اور طرح سے لینا چاہا۔وہ یوں کہ حکم دیا، ہمیشہ کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ دو اور اپنے رشتہ داروں کو، جو مسلمان نہیں ہیں، ہمیشہ کے لئے چھوڑ دو۔اور اس ماحول کو بھی، جس میں تم رہتے ہو، ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر دوسری جگہ (مدینہ ) چلے جاؤ۔چونکہ کچھ عرصہ بعد تک بھی حالات ویسے ہی رہے، اس لئے یہ ہجرت قائم رہی۔لیکن اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ اس قسم کی ہجرت کا ماحول اب نہیں رہا، اس لئے اب اس قسم کی ہجرت بھی نہیں رہی۔مگر وہ ہجرت کا اطلاق تھا ، ایک خاص واقعہ ہجرت پر۔ورنہ ہجرت اپنے عام معنی کے لحاظ سے قیامت تک کے لئے قائم ہے۔اس لئے قرآن کریم میں آتا ہے ، هَاجَرُوا۔اور قرآن کریم کا کوئی لفظ بھی منسوخ نہیں ہوسکتا۔تو فرماتا ہے کہ جو لوگ خدا کی خاطر اپنوں کو اور اپنی املاک کو چھوڑتے ہیں ، ( مثلاً آج کل کے زمانہ میں واقفین زندگی اپنے گھروں کو چھوڑ کر غیر ممالک میں چلے جاتے ہیں، جہاں کے رواج بھی مختلف ، جہاں کے حالات بھی مختلف، جہاں کے کھانے بھی مختلف ، پھر بڑی تنگی اور بڑی سختی کے دن وہاں گزارتے ہیں۔( یہ بھی مهاجر فی سبیل اللہ یامجاھد فی سبیل اللہ ہیں۔2۔دوسرے یہاں یہ فرمایا کہ وہ لوگ بھی مجاہد ہیں ، الذین آوو او نصروا، جوان بھائیوں کو ، جو مظلومیت کی حالت میں ان کے پاس جاتے ہیں، اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں اور ان کی امداد کرتے ہیں۔کیونکہ یہ بھی مجاہدہ میں شامل ہے۔پس فرمایا کہ یہ دو قسمیں جو ہیں، ایک ہجرت کرنے والوں کی اور دوسرے مہاجروں کو پناہ دینے والوں کی۔اولئک هم المؤمنون حقا، یہ وہ مجاہد ہیں، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے کہ یہ حقیقی مومن ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے مغفرت اور رزق کریم مہیا کرے گا۔واقفین زندگی بھی تحریک جدید کے ایک مطالبہ کے ماتحت مانگے گئے تھے۔اور یہ مطالبہ بھی ایک شکل ہے، مجاہدہ کی۔کیونکہ ہر وہ کام، (جیسا کہ پہلی آیات سے واضح ہوتا ہے۔) جو خدا کی رضا کی خاطر اور اس کے قرب کے حصول کے لئے کیا جائے اور جس کے کرنے میں انسان اپنی پوری توجہ اور پوری طاقت اور پوری قوت صرف کر رہا ہے اور اس سے جو کچھ بن آئے کر گزرے، اسے خدا تعالیٰ مجاھدہ کے نام سے پکارتا ہے۔تو قرآن کریم کی ایک آیت بڑی وضاحت سے بتا رہی ہے کہ وقف زندگی بھی مجاہدہ کی ایک قسم ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرۃ کی آیت 173 میں فرمایا کہ ہمارے احکام کے مطابق عمل کر کے 92