تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 93
93 93 تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 28اکتوبر 1966ء امت محمدیہ میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے، جنہیں دین کی خدمت میں لگایا گیا ہوگا اور مشاغل دنیا سے انہیں روک دیا گیا ہوگا۔(احصر وافی سبیل الله ) تو بتایا کہ ان کو تمام ان مشاغل سے روک دیا جائے گا کہ جو سبیل اللہ کے مشاغل نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کے علاوہ دنیا کمانے اور دنیا کی عزت حاصل کرنے کے تمام راستے ان پر بند کر دیئے جائیں گے۔تو جن لوگوں پر احصروا فی سبیل اللہ کا اطلاق ہوتا ہے، وہ بھی مجاہدین ہیں۔ایک قسم کا مجاہدہ اور جہاد کرنے والے ہیں۔اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگ جن پر دشمن، مخالف ہمنکر دنیا کی راہیں بند کر دیتا ہے۔آئے دن ہمارے سامنے ایسی مثالیں آتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ بعض احمد یوں کو صرف احمد بیت کی وجہ سے نوکری نہیں دیتے یا امتحانوں میں اچھے نمبر نہیں دیتے کہ وہ ترقی نہ کر جائیں یا اگر تاجر ہیں تو ان کی تجارت میں روک ڈالتے ہیں، اگر زمیندار ہیں تو طرح طرح سے ان کو تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خصوصاً جہاں نئے احمدی ہوں اور تعداد میں بھی تھوڑے ہوں۔وہاں اس قسم کا سلوک اکثر کیا جاتا ہے۔ایسے لوگوں پر خدا کے لئے دنیا کی تمام راہیں اگر بند ہو جائیں تو قرآنی محاورہ کے مطابق وہ احصر وافی سبیل اللہ کے گروہ میں شامل ہوتے ہیں۔دوسری قسم مجاہدہ کی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔جو آیات میں نے پڑھی ہیں، ان میں اللہ تعالی کا حکم ہے کہ دنیا میں نے تمہیں دی ہے، چاہو تو دنیا کا ایک حصہ خرچ کر کے مجھے حاصل کر لو، میری محبت کو پالو اور اگر چاہو تو دنیا کے کیڑے بن کر میری لعنت ، میرے غضب اور میرے قہر کے مورد بن جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انفاق پر بڑا زور دیا ہے۔انفاق فی سبیل اللہ کی کوئی حد بندی نہیں۔البتہ انفاق کی بعض قسموں کی حد بندیاں ہیں۔مثلاً زکوۃ ایک خاص شرح کے مطابق دی جاتی ہے۔لیکن تمام صدقات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی شرح مقرر نہیں فرمائی۔اسی طرح اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے دین کی تقویت کے لئے حسب ضرورت جو اموال مانگے جائیں، ان کے لئے کوئی شرح مقرر نہیں۔ہر آدمی پر فرض ہے کہ وہ اپنی ہمت کے مطابق اور حالات کی نزاکت کے مطابق خدا کی راہ میں اپنے مال کا جتنا حصہ وہ مناسب سمجھتا ہے، خرچ کرے۔جیسا کہ ایک وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ ارشاد فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے دین کو تمہارے مالوں کی ضرورت ہے تو حضرت ابو بکر نے اندازہ لگایا کہ یہ موقع اتنا نازک ہے کہ میرا فرض ہے کہ میں اپنا سارا مال لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ڈال دوں۔مگر حضرت عمر نے یہ