تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 88
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1966 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم واقع میں ایمان لائے ہو۔یہ تمہارا محض ایک کھوکھلا اور زبانی دعوئی ہی نہیں ہے۔اور اس کے ساتھ یہ کہ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللہ تم اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جہاد اور مجاہدہ کرو۔سبیل اس راہ کو کہتے ہیں، جو کسی خاص جگہ پر پہنچانے والی ہو۔تو سبیل اللہ وہ راستہ ہے، جو خدا تعالیٰ تک پہنچادیتا ہے۔وہ راہ، جو خدا تعالیٰ کا مقرب بنا دیتی ہے۔وہ راہ ، جو خدا کی رضا کے حصول میں محمد ومعاون ہے۔وہ راہ ، جس کے آخر پر اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کو مل جاتی ہے اور پھر انسان بھی اپنے تمام دل، اپنی تمام روح اور اپنے تمام حواس کے ساتھ اپنے مولیٰ سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔بلکہ اس کے روئیں روئیں سے اپنے رب کی محبت پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی ہے۔تو اس آیت میں یہ فرمایا کہ جس تجارت کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں اور جس کی طرف تمہاری راہ نمائی کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے اپنی جانوں کو مجاہدہ میں ڈالو۔اور تمہارا یہ مجاہدہ اور تمہارا یہ جہاد اموال کے ذریعہ سے بھی ہوا اور تمہارے نفوس کے ذریعہ سے بھی ہو۔ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُون۔اور اگر تمہیں حقیقت کا علم ہو جائے تو تم سمجھ جاؤ کہ دراصل اسی چیز میں تمہاری بھلائی ہے۔اس خَيْرٌ لَكُم کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرۃ کی آیت 219 میں یوں فرمائی ہے۔اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوْا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أوليك يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمُ کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے مجاہدہ کیا ، اس رنگ میں کہ انہوں نے خواہشات نفسانی کو خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑا، اس رنگ میں کہ انہوں نے اپنے پیدا کرنے والے کی خوشنودی کے حصول کے لئے گناہوں سے اجتناب کیا۔(هَاجَرُوا ) اور انہوں نے اپنے ماحول، اپنے املاک، (اپنی جائیدادوں ) اپنے کنبہ اور اپنے شہر اور اپنے علاقہ کو خدا تعالیٰ کی خاطر ترک کیا اور خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے گئے۔وَجَاهَدُوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے نیکی کے راستوں پر شوق اور بشاشت کے ساتھ قدم مارا۔اُولئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللَّهِ یہی وہ لوگ ہیں ، جو امید رکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں حاصل ہو جائے گی۔اُولئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللَّهِ۔یہ وہ لوگ ہیں، جواللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالی کی رحمت انہیں ضرور مل جائے گی۔پھر اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ جو شخص بدیوں کو ترک نہیں کرتا اور نیکیوں کو اختیار نہیں کرتا ، وہ یہ امید نہیں رکھ سکتا 88