تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 89 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 89

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1966ء کہ اللہ تعالیٰ اس سے رحمت کے ساتھ سلوک کرے گا۔یہ امید کہ اب میرا رب میرے ساتھ رحمت کا سلوک کرے گا، وہی رکھ سکتا ہے، جو بدیوں کو ترک کرتا اور نیکی کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا کہ جب تم بدیوں کو ترک کر کے اور نیکیوں کو اختیار کر کے میری رحمت کے امیدوار بن جاؤ گے تو پھر میں اپنے فضل کے ساتھ حقیقت اور واقعتا تمہیں اپنی رحمت عطا کر دوں گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ مائدہ میں فرماتا ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُم وَيُحِبُّونَ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَا بِمِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (آیت 55) فرمایا کہ بعض انسان تو ایمان لانے کے بعد ارتداد اختیار کر جاتے ہیں اور بعض ایمان لاتے اور پھر پختگی اور استقلال اور فدائیت کے ساتھ اس پر قائم ہو جاتے ہیں۔وہ لوگ، جو استقلال کے ساتھ نیکیوں پر مداومت اختیار کرتے ہیں ، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، يحبهم ويحبونه کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے اور اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔پھر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو مومنوں پر شفقت کرنے والے ہیں۔( ہر مومن تمام دوسرے مومنوں کے آگے بچھتا چلا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں ، اعزة على الكفرین جو کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں۔جب کا فرا چھے لوہے کی تلواریں لے کر ان کے مقابلے پر آتے ہیں تو ان کی ٹوٹی ہوئی ، خراب اور نا قابل اعتبار لو ہے کی بنی ہوئی تلواریں بھی ان کا فروں کی تلواروں کے مقابلہ میں محض خدا تعالیٰ کے فضل سے عملا سخت نظر آتی ہیں۔کیونکہ ان کی کاٹ زیادہ نظر آتی ہے۔اسی طرح جب یہ لوگ دلائل حقہ کے ساتھ کافروں کے باطل عقائد اور ان باطل عقائد کے حق میں باطل دلائل کا مقابلہ کرتے ہیں تو ان کے منہ بند کر دیتے ہیں۔اور جب کا فرلوگ مختلف قسم کی رسوم اور بدعات کے ذریعہ اور مختلف قسم کی لالچ دے کر ان کو راہ صداقت سے ہٹانا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ان کا اثر قبول نہیں کرتے (اعزة على الكفرين)۔فرمایا کہ ہم جو ایسے گروہ سے محبت کا سلوک کرتے ہیں تو اسی لئے کہ یـجـاهــدون فی سبیل الله۔یہی وہ لوگ ہیں ، جو اپنی پوری طاقت اور پوری قوت اور اپنے پورے وسائل اور تمام تدابیر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں ، اس کے راستہ میں مجاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ولا يخافون 89