تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 84
اقتباس از خطاب فرموده 22 اکتوبر 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اشاعت میں دلچسپی ہے۔ہمیں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو ، اس پیارے وجود کی محبت کو دنیا کے دلوں میں قائم کرنے سے محبت ہے۔دنیا کے ساتھ ہماری کوئی دلچسپی نہیں۔تو میں ” ہر میدان میں مجاہد بنیں“ کے الفاظ بول رہا ہوں۔جہاد کا لفظ نہیں بول رہا تا کوئی بیوقوف یا کوئی شرارتی اس فقرہ پر اعتراض نہ کرے۔جیسا کہ مجھے ابھی معلوم ہوا ہے کہ لجنہ اماءاللہ کے جلسہ میں صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے جو تقریر کی تھی، اس میں انہوں نے اس قسم کے مضمون کو بیان کر کے جہاد کا لفظ استعمال کیا تو اب بعض لوگ یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ لجنہ اماءاللہ کی تحریک کا وہ کون سا حصہ ہے، جو اس وقت ایٹم بم بنا رہا ہے، لجنہ اماءاللہ اس دنیا کو تباہ کر رہی ہے۔حالانکہ ہم اس دنیا کو تباہ کرنے کے لئے پیدا ہی نہیں ہوئے۔ہم تو دنیا کو زندہ کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ہم تو مردہ روحوں کو جلا دینے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ہم تو ان لوگوں کو ، جنہوں نے ابھی اپنی زندگی کا مقصد نہیں پایا، ان راستوں کی نشان دہی کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں کہ جو راستے ، انہیں خدا تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والے ہیں۔بہر حال جماعت احمدیہ کے لئے اشاعت اسلام کے لئے مجاہدہ اور قرآن کریم کی اشاعت کے مجاہدہ کے بہت سے میدان ہیں۔اور ہر میدان کے لئے ہم ہر احمدی مرد اور عورت سے وقف کی قربانی مانگتے ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں ہر میدان مجاہدہ میں کچھ ایسے فدائی اور جاں نثار مہیا کریں، جن کی اس وقت ہمیں ضرورت ہے۔اور جو خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کرنے والے ہوں۔یہ وقف کرنے والے آپ کی گودوں کے پالے ہیں۔آپ ان کو ایسے رنگ میں پالیں اور تربیت دیں کہ وہ میدان مجاہدہ میں بشاشت کے ساتھ ، میدان مجاہدہ میں بے نفسی کے ساتھ ، میدان مجاہدہ میں فدائیت اور ایثار کے ساتھ ، خدا تعالیٰ کی محبت کے جنون کے ساتھ کو دیں۔اور اسلام کے نام کو ا کناف عالم تک پہنچانے کی جو ہم اللہ تعالیٰ نے شروع کی ہے، اس کی کامیابی اور فتح کے دن اپنی کوششوں اور دعاؤں کے نتیجہ میں قریب سے قریب تر لاتے چلے جائیں۔دنیا کو بتائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چھوٹے مسلمان بچوں نے باوجود چھوٹی عمر ہونے کے میدان جہاد میں حصہ لیا۔جب کافروں نے تلوار سے مسلمانوں کو اور اسلام کو مٹانا چاہا تو وہ بچے تلوار لے کر میدان میں کو دے اور انہوں نے اپنی جانیں خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دیں۔تو اب جبکہ تلوار کے جہاد کا زمانہ نہیں بلکہ قلم اور تقریر کے جہاد کا زمانہ ہے اور مخالف اپنے وعظوں میں اور اپنی تقاریر میں اور اپنی تحریروں میں اسلام پر ہرنا جائز اور ہر کمبینہ حملہ کر رہا ہے، ہم (احمدی بچے ) بھی پیچھے نہیں رہے بلکہ اس 84