تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 983
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1973ء کی آنکھیں پھوڑ دو۔چنانچہ انہوں نے تیراندازی کی۔ان تیراندازوں میں ایک مسلمان لڑکی بھی شامل تھی۔جسے بیوہ ہوئے صرف ایک دن گزرا تھا۔مسلمانوں نے تیراندازی سے ایک ہزار آدمیوں کی آنکھوں کا نشانہ لیا۔اب کیا وہ کوئی انسان تھا جس نے آنکھوں میں تیر مارے؟ نہیں! انسان نہیں مار سکتا۔میں نے بڑا سوچا اور یہی سمجھا ہے کہ پتہ نہیں تیر کدھر جا رہے تھے فرشتوں نے پکڑ کر رومیوں کی آنکھوں میں گھسیڑ دیئے۔خدا تعالیٰ کی قدرت پس پردہ کارفرما ہوتی ہے۔ورنہ تو جزاوسزا کا مسئلہ ہی کوئی نہ رہے۔اگر خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر و عیاں ہو کر سامنے آجائیں تو ایمان بالغیب جو ایمان کی بنیادی کیفیت ہے وہ کس طرح پیدا ہو۔جب حضرت خالد بن ولید نے تیر اندازوں کو دشمن کی آنکھوں کا نشانہ لینے کا حکم دیا تھا تو اس وقت ایک منافق کہتا ہوگا کہ خالد پاگل ہو گیا ہے کہ وہ اس قسم کا حکم دیتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے حضرت خالد کے دل میں ڈالا کہ تیراندازوں کو آنکھوں کا نشانہ لینے کا حکم دو اور فرشتوں کو کہا کہ تیروں کو پکڑ کر آنکھوں میں ڈال دو۔چنانچہ ایک ہزار آدمی چیختا چلاتا شہر کی طرف بھاگا کہ ہم اندھے ہو گئے۔ہم اندھے ہو گئے جس کی وجہ سے سارے شہر میں سنسنی پھیل گئی۔اور ان کا یہ خیال تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑ سکتے ہیں ختم ہو گیا۔ویسے بھی جس فوج کو پتہ چل جائے کہ مقابلے میں جو فوج ہے وہ آنکھوں کا نشانہ کامیابی سے لے سکتی ہے تو اس کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں۔نہیں یہ تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ جماعت کو ترقی پر ترقی عطا کرتا چلا جارہا ہے اور دنیا کو اپنی قدرت کے جلوے دکھا رہا ہے۔تاہم یہ ایک پردہ ہے، جس کی روحانی آنکھ ہے ، وہ اس پردے کو چیرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے دیکھ لیتی ہے۔لیکن جو دنیا دار ہے، وہ اعتراض کرتا چلا جاتا ہے اور مخالفانہ کوشش کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ خدا سے جنگ نہیں لڑ رہا۔حالانکہ نتیجہ بتا تا ہے کہ دراصل اس کی کوشش خدا سے جنگ لڑنے کے مترادف ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ کہا ہے انسانوں سے نہ ڈرنا بلکہ صرف مجھ سے ڈرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے تو غلبہ اسلام کے لئے کھڑے ہو کر کام کرنے کا حکم ہے۔جولوگ کمزور ہیں وہ میر اساتھ چھوڑ دیں۔آخر آپ نے کس برتے پر کہا کہ جو کمزور ہیں وہ میرا ساتھ چھوڑ دیں۔آپ نے قربانی کا جو نقشہ کھینچا ہے، ہو سکتا تھا کہ آپ نے بھی سوچا ہو کہ شاید ایک آدمی بھی آپ کے ساتھ نہ رہے۔مگر آپ کا خدا پر کامل یقین اور ایمان تھا کہ آپ کو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خیال نہ ہوا کہ اگر سارے لوگ بھی آپ کو چھوڑ دیں تو پھر کیا ہوگا۔آپ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ اگر لوگ میرا ساتھ چھوڑ دیں گے تو پتھر میری صداقت کی گواہی دیں گے۔کیونکہ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ مسیح موعود کی 983