تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 984 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 984

ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم صداقت بہر حال ظاہر ہوگی۔پس حضرت مسیح موعود کو جو بشارتیں دی گئی ہیں وہ بھی تو بہر حال پوری ہوں گی۔اور خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جوان بشارتوں کے پورا کرنے میں ( جو بظاہر پردوں کا انتظام کیا گیا اس میں انتہائی قربانیاں دیتے ہوئے حصہ دار بن جائیں گے اور خدا کے فضلوں کے مور د ھہریں گے۔پس دنیا اپنے کام میں مشغول ہے ہمیں ان کی طرف توجہ ہی نہیں دینی چاہئے۔خوف کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان اس طرف دیکھنے لگ جاتا ہے۔اگر کسی کے سامنے سانپ آجائے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ توجہ دوسری طرف پھیر لے۔وہ تو سانپ سے آنکھیں ہی نہیں ہٹائے گا کہ کہیں اسکا میری طرف رخ نہ ہو جائے۔پیچھے بٹے گا، بھاگے گا، دوڑے گا اپنی جگہ تبدیل کر یگا اور بھی بچاؤ کا جو بھی ذریعہ اس کے دماغ میں آئے گا اسے اختیار کرے گا۔مگر وہ اپنے دشمن سانپ کو آنکھ میں پکڑے رکھے گا۔پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ میرے سوا کسی سے ڈرنا نہی تو ہمیں یہ بھی فرمایا کہ کسی کی طرف توجہ نہیں کرنی۔کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا۔ان کو لاشئی محض سمجھنا ہے ان کو ایک مردہ کیڑے سے زیادہ اہمیت نہیں دینی۔خدا پر توکل رکھنا وہ سچے وعدوں والا ہے وہ خود ہی اپنے فضل سے اپنے وعدوں کو پورا کریگا اور یہ کام ہو جائے گا۔جو ہمارا کام ہے وہ ہم کر رہے ہیں انشاء اللہ بیرونی جماعتوں میں خبریں پہنچائیں گے۔جماعت دعائیں کرے گی۔ان کو دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کرے ہماری کسی کمزوری کی وجہ سے ہمارے گی۔ان کہ تعالی وجہ او پر جوفضل نازل ہورہے ہیں ان میں کمی واقع نہ ہو۔اور خدا کے فضلوں کے نزول میں روز بروز جو شدت پیدا ہورہی ہے، وہ ہمیشہ ہی قائم رہے۔دنیا مختلف رنگوں میں یہ کہہ رہی ہے اور ہمارا بھی یہی تاثر ہے کہ غلبہ اسلام کی مہم میں یہ شدت اگلے چند سالوں میں اور بھی تیز ہو جائے گی اور حالات بہت بدل جائیں گے۔تکلیفیں تو ہیں، ابتلاء تو آتے رہیں گے۔لیکن جو لوگ اخلاص کے ساتھ اپنے مقام کو پہچانتے ہوئے اپنے مقام پر کوہ ہمالیہ سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے فضلوں کو سمیٹیں گے کہ قیامت تک کی نسلیں ان پر رشک کرتی رہیں گی۔کیونکہ جو ترقی کا زمانہ ہے اس کی اور کیفیت ہوتی ہے مثلاً جب جنگ ہو رہی ہوتی ہے تو اس وقت اور کیفیت ہوتی ہے۔اور جب ساری دنیا میں اسلام قائم ہو جائے گا اور اقوام عالم مسلمان ہو جائیں گی تو ان کی ایک خاص روحانی اور اخلاقی معیار پر اور اسلامی معیار پر قائم رکھنے کی مہم چلائی جائے گی۔دنیا کو اسلام کی طرف کھینچ کر لانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیاران کے دلوں میں پیدا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے قدموں پر اقوام کو اکٹھا کر کے امت واحدہ بنانے کی جو عظیم جد و جہد ہے، وہ ہی عظیم چیز ہے۔دنیا کی کوئی چیز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔جو لوگ اس میں اپنی ذمہ 984