تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 83

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 22 اکتوبر 1966 فیصلے بھی خود ہی فرمایا کرتے تھے، وقف جدید کے سلسلہ میں اپنی بیماری کی وجہ سے حضور ایسا نہ کر سکے۔لیکن چونکہ وقف جدید شروع میں ہی حضور کی ذاتی نگرانی اور توجہ سے محروم ہوگئی ، اس لئے اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ جو عظیم کام اس تحریک نے کرنا تھا، وہ پورا نہیں ہو سکا“۔وو۔۔۔دوسری ضرورت پیسہ کی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ میری دلی خواہش یہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے دل میں بھی یہ تڑپ پیدا ہوگی کہ دنیا کس شان سے یہ نظارہ دیکھے گی اور کس رشک کے ساتھ یہ نظارہ دیکھے گی کہ احمدی مستورات نے عیسائیت کے گڑھ میں، وہاں جہاں تو حید کے خلاف اس قسم کے نظریے پائے جاتے ہیں کہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ اس کے نتیجہ میں آسمان اپنی جگہ کو چھوڑ دے اور زمین پر آپڑے اور اس طرح زمین و آسمان تباہ ہو جائیں۔کیونکہ ان قوموں کے نظریات اس غرض کے بالکل مخالف اور اس کی ضد ہیں ، جو ان کی پیدائش کی تھی۔ان کا ایک حصہ تو خدا تعالیٰ کا منکر ہو چکا ہے اور دہریت ان کا مذہب ہے۔اور ایک حصہ وہ ہے، جو ابھی دہر یہ تو نہیں ہوالیکن انہوں نے ایک ماں جائے کو اپنا خدا بنالیا ہے اور وہ اس کے آگے اپنی ناک رگڑتے اور دعائیں کرتے اور حاجت برداری کی اس سے امید رکھتے ہیں۔ان جگہوں پر آپ نے قربانی دے کر جو مساجد بنائی ہیں، ان مساجد کو آباد کرنے کے لئے ہمیں تحریک جدید کے واقف چاہئیں۔پھر یہاں ملک میں کام کرنے کے لئے وقف جدید کے واقف چاہئیں۔پس آپ کوشش کریں کہ آپ کی گود میں پلنے والے اسلام کے ہر میدان میں مجاہد بنیں۔اگر میں جہاد کہوں تو کئی بے وقوف اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں کہ پتہ نہیں جہاد سے ان کا کیا مطلب ہے؟ ایک طرف وہ ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم تلوار کے جہاد کے منکر ہیں اور کافر ہیں۔اور دوسری طرف جب ہم قرآن کریم کے جہاد کا نام لیتے ہیں تو اعتراض کرتے ہیں، دیکھو! یہ کوئی سیاسی جماعت ہے، جو سازش کر رہی ہے۔پتہ نہیں کہ یہ حکومت کا تختہ کب الٹ دے۔ہمیں دنیوی حکومتوں سے کیا غرض اور واسطہ؟ ہمیں تو خدا تعالیٰ کی حکومت کا قیام مد نظر ہے۔تازمین کے چپہ چپہ پر زمین کے بسنے والوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت قائم ہو جائے۔دنیا، دنیا والوں اور دنیا داروں کو مبارک ہو۔ہمارے دل میں تو اللہ تعالی نے دنیا کی محبت ٹھنڈی کر دی ہے۔ہمیں دنیا سے کوئی غرض نہیں۔ہمیں دنیا کا کوئی لالچ نہیں۔ہمیں دنیا کی وجاہتوں، اس کے اقتدار اور عزتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ کی محبت کے قیام میں دلچسپی ہے۔ہمیں تو قرآن کریم کی 83