تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page vii
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 1934ء میں پانچ ، چھ خطبات دیئے۔اگر آپ ان خطبات کا مطالعہ کریں تو آپ جان لیں گے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذہن میں ایک نہایت ہی اہم اور دور رس سکیم تھی۔جس کی اہمیت بتاتے ہوئے بھی حضور نے غالباً دو یا اس سے زائد خطبات دیئے تھے۔میں نے گزشتہ دنوں ان خطبات کو دوبارہ پڑھا اور ان پر غور کیا تو میری توجہ اس طرف گئی کہ تمام مطالبات، جو تحریک جدید کے ضمن میں، اس سکیم کے ماتحت آپ نے جماعت احمدیہ سے کئے ہیں، وہ سارے کے سارے قرآن مجید کے پیش کردہ مطالبہ جہاد کی مختلف شقیں ہیں۔خطبه جمعه فرمود و 28 اکتوبر 1966ء) وو تحریک جدید - خلافت کی ایک برکت ، اس کے متعلق فرمایا :۔اللہ تعالی نے خلافت کی برکت کے نتیجہ ہی میں تو آپ کے لئے ایسے سامان پیدا کئے کہ آپ میں سے کسی نے چند روپے کسی نے چند سو روپے ہی دیے تھے مگر حضرت المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کو تحریک جدید کی جو سکیم خدا نے سمجھائی۔اس کے ذریعہ سے اور اس کے نتیجہ میں آج ساری دنیا میں احمدیت مضبوطی کے ساتھ قائم ہوگئی ہے۔(خطبہ جمعہ فرمود : 28 اکتوبر 1966 ء ) تحریک جدید کی نمایاں خصوصیات اور ضروریات کے متعلق فرماتے ہیں:۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کی شکل میں اپنی ایک عظیم یادگار چھوڑی ہے۔اور اس کے جو نمایاں پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں، ان میں سے ایک نمایاں پہلو تو تربیت جماعت کا ہے۔آپ ایک لمبا عرصہ اسلام کی ضروریات جماعت کے سامنے رکھ کر جماعت کو آہستہ آہستہ تربیت اور قربانی اور ایثار کے میدانوں میں آگے سے آگے لے جاتے چلے گئے۔دوسرا نمایاں پہلو پاک و ہند سے باہر جماعتوں کا قیام ہے۔1934ء میں جب تحریک شروع ہوئی تھی، بیرون پاک وہند بہت کم جماعتیں تھیں۔ایک آدھ ملک میں کچھ لوگ احمدیت سے متعارف اور اس کی حقانیت کے قائل تھے۔لیکن تحریک جدید کے اجرا کے ساتھ (جو یقیناً الہی تحریک ہے۔) بڑی کثرت سے مختلف ممالک میں جماعت ہائے احمد یہ قائم ہوئیں۔پھر ان کی تربیت