تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 606
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم آگے ترقی کروں۔مجھے پتہ تھا کہ یہ وسوسہ ہے، جو بڑی جلدی دور ہو جائے گا۔میں نے مسکرا کر ان سے کہا کہ نہیں، میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔جیسا کہ تم وقف ہو ، جا کر جامعہ احمدیہ میں داخل ہو جاؤ۔اس قسم کے بعض دوسرے لوگ بھی میرے پاس آتے ہیں۔پس ایک تو دین کے لئے ہمیں اچھے ذہن چاہئیں، دوسرے معاشرہ کے لحاظ سے جامعہ احمدیہ میں ایک سمویا ہوا گر وہ ہونا چاہئے۔یعنی غریبوں کے بچے بھی ہوں، متوسط خاندانوں کے بچے بھی ہوں اور اچھے امیروں کے بچے بھی وہاں آئیں۔اگر یہ نہیں ہوگا تو ان کی صحیح تربیت نہیں ہو سکے گی۔صحیح تربیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ غریب اور متوسط اور امیر گھرانوں کا بڑا اچھا تعلق ہو، ورنہ تو معاشرہ خراب ہو جاتا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ جو بعد ہمیں یہاں ایک وزیر اور ایک عام آدمی کے درمیان نظر آتا ہے، وہ بعد افریقہ میں نظر نہیں آتا۔ایک عام معمولی آدمی وزیر سے بڑے دھڑلے کے ساتھ جا کر بات کرنے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔کیونکہ ان کا آپس میں کوئی بعد نہیں۔مگر یہاں بڑا بعد ہے۔یہاں پر وزیر تو الگ رہا، وزیر کا چپڑاسی بھی اچھے بھلے شریف آدمیوں کو بعض دفعہ دھکے دے کر باہر نکال دیتا ہے۔لیکن وہاں تو ایک وزیر بھی ایسا نہیں کر سکتا۔ان کا معاشرہ ہی ایسا ہے۔اسے میں اسلام کا معاشرہ تو نہیں کہہ سکتا کیونکہ اسلام کا معاشرہ اس سے بھی زیادہ حسین ہے۔لیکن ہمارے ملک کے معاشرہ کے مقابلہ میں وہ معاشرہ اسلامی معاشرہ کے زیادہ قریب ہے۔پس ہمارا یہ معاشرہ یعنی انسانی مساوات که انسان انسان میں کوئی فرق نہیں، یہ پوری طرح قائم نہیں ہوسکتا۔جب تک ہم ہر شعبہ میں یہ ثابت نہ کریں کہ انسان انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔اور ایک شعبہ ہمارا جامعہ احمدیہ کا ہے۔وہاں جو ہمارے Millionaire) ملین ایر اگر کوئی ہوں ، ہماری جماعت میں تو ان کے بچے بھی آنے چاہئیں۔اور ایک جیسے ماحول میں انہیں تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔اور پھر ایک جیسی پابندیوں کے ساتھ انہیں باہر جا کر تبلیغ کرنی چاہئے۔تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے اندر حقیقی معنی میں مساوات قائم ہے۔اگر دنیا آج ہمیں یہ کہے کہ مساوات قائم کرنے کا دعوی کرتے ہو لیکن تمہارا جامعہ احمدیہ، جہاں سے تمہارے مبلغ بن کر نکلتے ہیں، وہاں غریبوں کے بچے بھی ہیں متوسط خاندانوں کے بچے بھی ہیں لیکن امیر گھرانے کا کوئی بچہ نہیں کیا جواب دیں گے آپ یا کیا میں جواب دے سکتا ہوں؟ یہ حقیقت ہے، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ جامعہ احمدیہ میں صحیح اسلامی معاشرہ کا امکان امراء کی غفلت کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوسکا۔606