تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 349
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 02 فروری 1968ء پس تربیت کا ایک محاذ تو یہ ہے۔ساری جماعت کو اس طرف متوجہ رہنا چاہیے کہ ایک دوسرے کے مد اور معاون اور ناصر بن کر ایک دوسرے کولغزشوں سے بچائیں۔اور اس طرف متوجہ کرتے رہیں کہ دیکھنا کسی موقع پر بھی کبر اور نخوت اور غرور اور ابا اور استکبار تمہارے اندر نہ پیدا ہو جائے۔عاجزی کے ساتھ اور نیستی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارو۔یہ ایک پہلو ہے تربیت کا۔اور دوسرا پہلو جو ہے، وہ نئے داخل ہونے والوں یا نٹے پیدا ہونے والوں کا محاذ ہے۔جب ایک کام ایک لمبے زمانہ پر ممتد ہو تو ضروری ہوتا ہے کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل کی صحیح تربیت کی جاتی رہے۔تو دوسرا پہلو تر بیت کا اطفال کی تربیت، نئے داخل ہونے والوں کی تربیت ہے۔(اس کی تفصیل میں ، میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔) بهر حال هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں ایک تو یہ فرمایا کہ ہدایت پا جانے کے بعد بھی تمہیں ہدایت پر قائم رہنے کے لئے ایک ہدایت کی ضرورت ہے اور وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے۔اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے اشارہ یہ فرمایا کہ قرآن کریم ہدایت کا سامان اپنے اندر رکھتا ہے۔(دوسری جگہ بڑی وضاحت سے اسے بیان کیا ہے۔) اور اشارہ بتایا گیا ہے کہ جو ہدایت یافتہ نہ ہوں، بڑے ہوں، شعور رکھنے والے ہوں لیکن ابھی ان پر اسلام کی حقیقت واضح نہ ہوئی ہو یا بچپن سے بڑے ہور ہے ہوں اور ابھی اس قسم کا شعوران میں پیدا نہ ہوا ہو، جو بھی صورت ہو، نئے سرے سے ہدایت دینے کے سامان قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں۔اور قرآن کریم نے بڑا زور دیا ہے کہ تربیت کے اس پہلو کو بھی ہمیشہ مد نظر رکھو اور اس میں بھی غفلت سے کام نہ لو۔دوسرا محاذ جہاں ہمیں چوکس رہنا چاہیے اور اس کی طرف سورۃ بقرۃ کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں متوجہ کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِینَ کے مضمون کے متعلق آیات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) کہ ایک دوسری جماعت یا دوسرا گروہ وہ ہے (اس کامل کتاب کے نزول کے بعد ) کہ جن کے دل اور دماغ اور روح کی کیفیت یہ ہے کہ تم انہیں انداری پیشگوئیاں بتا کر انذار کردیا نہ کرو، ان کے لئے برابر ہوگا۔وہ اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم نبی کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں دنیا کی طرف بھیج دیا ہے۔اور قیامت تک دنیا کی قسمت کو آپ کے پاک وجود کے ساتھ 349