تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 173
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 25 اگست 1967ء اور وہ یہ ہے کہ ایک دوست لکھتے ہیں کہ خاکسار نے 06/08/67 کو خواب میں دیکھا کہ حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں اسلام کی فتح کا جھنڈا ہے۔اس کے نچلے حصہ میں ( جو پکڑنے کی جگہ ہے) انگریزی ہندسوں میں 1412 لکھا ہے۔اور آپ کو ( یعنی مجھے ) فرماتی ہیں کہ ان دوستوں کے نام شکریہ کی چھٹیاں لکھ دیں، جنہوں نے فتح کے نزدیک لانے میں مدد دی ہے۔غرض ہمارے سارے سفر کا جو انجام ہے، وہ اس رویا میں دکھایا گیا ہے۔اور وقت کی تعیین 25 سال کی گئی ہے۔اور میں نے بھی یورپین اقوام کو یہی کہا تھا کہ تمہیں سال کے اندراندر ایک عظیم روحانی انقلاب رونما ہونے والا ہے۔گو یہ بات الفضل میں بھی غلط چھپ گئی ہے۔اور وہاں کے بعض اخباروں نے بھی میری اس بات کو غلط طور پر شائع کر دیا تھا۔میں نے جو انہیں تنبیہ کی تھی ، اس میں جس زمانہ کی تعیین کی تھی ، وہ 30 سال نہیں تھا۔یعنی میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ جس عظیم تباہی کے متعلق میں کہہ رہا ہوں ، وہ تمہیں سال کے بعد آئے گی۔بلکہ میں نے یہ کہا تھا، ہیں، ہمیں سال کے اندر اندر تم لوگ مجبور ہو جاؤ گے کہ اسلام کی طرف جھکو اور اسے قبول کرو یا پھر تباہ کر دئیے جاؤ۔تمہارے لئے اب ان دور استوں کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔یا تو تمہارے لئے تباہی کا راستہ ہے یا پھر اسلام کا صراط مستقیم ہے۔ان کے سوا اور کوئی تیسرا راستہ تمہارے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔اور آگے اپنے وقت پر جا کر میں آپ کو بتاؤں گا کہ میں نے کس رنگ میں، کس تمہید کے بعد کس وضاحت کے ساتھ اور کس زور کے ساتھ یہ باتیں ان کے ذہن نشین کروائیں۔اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ اخباروں نے ان باتوں کو لیا اور سارے ملک میں پھیلا دیا۔براڈ کاسٹ ٹیلی ویژن پر بھی آگیا اور یہ اپنی جگہ ایک علیحدہ مضمون ہے، جب میں اس حصہ میں داخل ہوں گا تو اس کے متعلق بتاؤں گا۔بہر حال دوستوں نے سینکڑوں نہیں تو بیسیوں کی تعداد میں (یقینا سو سے اوپر ہی ہیں۔مبشر خواہیں دیکھیں۔جن میں سے بعض میں کچھ منذر حصے بھی ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے، میری اپنی خوابوں میں بھی بعض منذ رحصے تھے۔لیکن بہر حال تمام خواب انجام بخیر بھی بتارہے تھے۔ہاں، ان سے یہ ضرور ظاہر ہوتا تھا کہ واپسی پر کچھ تکالیف اور پریشانیاں بھی ہوں گی۔چنانچہ کراچی میں میری ایک بچی رہتی ہے۔بعض کاموں کی وجہ سے وہ اپروڈ رام پر ہیں آسکتی تھی۔جس دن ہم نے کراچی میں لینڈ کرنا تھا، اس دن اس کی طبیعت بہت گھبرائی ہوئی تھی۔وہ بے چین تھی کہ جلدی آئیں اور ملیں۔امیروڈ رام والوں نے انہیں کہا کہ آج اتنی بارش ہو رہی ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو ہم ہوائی جہاز کو یہاں اترنے کی اجازت نہیں 173