تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 674 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 674

خطاب فرمودہ 26 اکتوبر 1957ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم حبشی، جو پہلے پادری تھا، وہ بھی آنا چاہتا ہے۔اگر وہ آگیا تو پانچ ہو جائیں گے۔غرض اس وقت تک ہمارے پاس قریبا دس ممالک کے لوگوں کی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں کہ ہم یہاں آنا چاہتے ہیں۔بلکہ اب تو بھارت بھی غیر ملک ہی ہے، بھارت سے بھی درخواستیں آتی رہتی ہیں۔تھوڑے دن ہوئے، ایک سکھ کی چھٹی آئی تھی کہ میں دین سیکھنا چاہتا ہوں ، اس کا انتظام کر دیں۔غرض اللہ تعالیٰ دنیا میں چاروں طرف اسلام کی اشاعت کے لئے رستے کھول رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھاتی چلی جائے تا کہ ہر جگہ اسلام کو کامیابی کے ساتھ پھیلایا جا سکے۔بے شک دنیا ہماری مخالف ہے مگر کامیابی الہی سلسلہ کے لئے ہی مقدر ہوتی ہے۔مخالفانہ تدبیریں سب خاک میں مل جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر دنیا میں غالب آکر رہتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ کہ انسانوں نے بھی اسلام کو شکست دینے کی بڑی تدبیریں کیں اور ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے بھی اسلام کو فتح دینے کی تدبیریں کیں لیکن واللہ خیر الماکرین اللہ تعالیٰ کو بڑی تدبیریں کرنی آتی ہیں اور آخر اللہ تعالی کی تدبیریں ہی جیتی ہیں۔دیکھ لو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دشمن نے کتنی تدابیر کیں۔لیکن بالآخر اسلام فاتح ہوا، مکہ فتح ہو گیا، سارا عرب فتح ہو گیا اور کفار کی تدابیر کسی کام نہ آئیں۔کیونکہ وہ انسانی تدبیریں تھیں۔بے شک کفار نے مسلمانوں پر بیسیوں حملے کئے ، مدینہ کے دائیں بھی اور اس کے بائیں بھی۔خود پر بھی اور ان مسلمانوں پر بھی ، جو مدینہ کے رستہ میں آباد ہو گئے تھے۔مگر کفار کی ساری کوششیں بریکار ہو گئیں اور آخر حضرت عثمان کے زمانہ میں کسری اور قیصر دونوں کی حکومتیں ٹوٹ کر چور چور ہوگئیں۔پھر ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں اسلامی جرنیل طارق نے سپین کو فتح کیا اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے زیادہ دور کی بات نہیں بلکہ اس وقت ابھی بعض صحابہ زندہ موجود تھے۔پھر معاویہ بن یزید کے ایک لڑکے عبدالرحمن نے دمشق میں جا کر اندلس میں اموی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور اس کے بعد گیارہ سو سال تک مسلمان اندلس پر حکمران رہے۔تو جس خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نشان دکھلائے تھے، وہ خدا ہمارے زمانہ میں بھی موجود ہے۔وہ بڑھا نہیں ہو گیا ، وہ ویسا ہی جوان اور طاقتور ہے، جیسے پہلے تھا۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر ایمان ہو۔674