تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 30

اقتباس از خطبه جمعه فرمود 140 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم لیول پر ہوں تو یہ بات ایسی ہے، جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عمل نہیں کرتے تھے۔احادیث میں ب شخص کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ نماز پڑھایا کرتا تھا تو نگا ہوجاتا تھا۔کیونکہ اس کا کرتہ لمبانہ تھا۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس بھی ایسا ہی ہوتا تھا؟ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس پورا ہوتا تھا۔بلکہ احادیث میں یہاں تک ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جہ تھا، جو آپ خاص طور پر جمعہ کے دن پہن کر جایا کرتے تھے تو مساوات کہاں رہی ؟ پھر احادیث میں آتا ہے کہ آپ کے پاس گھوڑا ، اونٹ اور خچر بھی تھے۔مگر صحابہ میں وہ بھی تھے، جن کے متعلق ذکر آتا تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمیں کوئی چپلی ہی دے دیں، ہم جہاد میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔مگر آپ نے فرمایا میرے پاس چہلی بھی نہیں۔اگر مساوات کے یہ معنی ہیں کہ سب کے لباس ایک جیسے ہوں تو میں اس خاتون سے یہی سوال کرتا ہوں کہ کیا اس کا اور اس کی چوڑھی کا لباس ایک جیسا ہے؟ وہ یہی کہے گی کہ میں اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتی ہوں اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتی ہے۔پھر اگر خدا کسی کو زیادہ دیتا ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتا ہے تو اس پر اعتراض کیسا ؟ اب تو ہماری جائیداد کو ایک حد تک نقصان پہنچ گیا ہے۔پچھلے ایام میں میرا چندہ آمد پر 80 فیصدی ہوتا تھا اور یہ بھی اس صورت میں جبکہ مجھ پر اتنا قرض تھا۔اور اتنا قرض ہے کہ دوسرے آدمی کا اتنے قرض میں دل بیٹھ جائے۔ایسے لوگ جن پر نبتی طور پر اس کا دسواں حصہ بھی قرض ہوتا ہے، چندہ دینے سے عموما گریز کرنے لگ جاتے ہیں۔مگر میں اتنے قرض کے باوجود اپنی آمد پر 80 فیصدی چندہ دیتا رہا ہوں۔پس سوال نسبتی بات کا ہوتا ہے۔بعض چیزوں کے بارے میں بے شک اصول مقرر ہیں اور اس میں سب برابر ہیں۔مثلاً ہم نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ سب لوگ ایک کھانا کھا ئیں۔مگر ہم نے یہ نہیں کہا کہ صرف دال کھاؤ۔جو گوشت کھا سکتا ہے، وہ گوشت کھائے۔جو بھنا ہوا گوشت کھا سکتا ہے، وہ بھنا ہوا گوشت کھائے۔ہزاروں احمد می ایسے ہوں گے، جن کے گھروں میں بھنا ہوا گوشت پکتا ہوگا۔ہم تو پچھلے آٹھ مہینہ سے پتلے اور لمبے شوربہ پر ہی گزارہ کرتے ہیں۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی بھنا ہوا گوشت کھاتا ہے تو یہ قابل اعتراض امر ہے۔اگر ایک آدمی کے گھر افراد کم تھے اور اس کے گھر کے حالات بھی اچھے تھے اور اس نے بھنا ہوا گوشت کھایا تو یقینا اس نے ایک کھانا کھانے کے حکم کو پورا کر دیا۔لیکن کئی احمدی ایسے بھی ہیں ، جن کو شور بہ تو کیا، دال بھی مشکل سے ملتی ہے۔ایسے احمدیوں سے ہماری حالت یقیناً اچھی ہے۔پھر کئی ایسے بھی ہیں، جن کو دال بھی نہیں ملتی۔بلکہ ایسے بھی پائے جاتے ہیں، جن کو دو وقت کے 30