تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 223
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده: 07 ستمبر 1951ء لاکھوں آدمی مریں ، ہو گا وہی ، جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے۔یعنی اس کا نبی ہی جیتے گا۔یہی رنگ ہے، جو خدا تعالیٰ کا ہے۔یعنی جو وہ کہتا ہے، اس سے پھرتا نہیں۔لَا يُخْلِفُ اللهُ الْمِيعَادَ جب خدا تعالیٰ کسی چیز کے لیے جگہ یا وقت کا تعین کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف نہیں کرتا۔ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے یہی مومن کا کام ہونا چاہئے کہ وہ جو کہے، اسے پورا کرے۔دین پر مصیبت نہیں آنی چاہئے۔ایسا کرنے میں تم پر تکلیف ضرور آئے گی۔کیونکہ ہمارا ملک غریب ہے، ہماری قوم غریب ہے اور ہمارے گزارے معمولی ہیں۔دشمن ہنستا ہے لیکن ہمارا ایک منافق جو کام کر سکتا ہے، دوسرے مسلمان وہ کام نہیں کر سکتے۔الا ماشاء الله ، ان میں بھی بعض اچھے لوگ ہیں۔لیکن اکثر حصہ ان میں نعرے مارنے والوں کا ہے۔جو لوگ کام کرنے والے ہوتے ہیں، وہ نعرے نہیں لگایا کرتے۔مجموعی طور پر جس نسبت سے ہماری جماعت قربانی کر رہی ہے، کسی دوسری قوم میں یہ قربانی نہیں پائی جاتی۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جس حد تک تمہاری قربانی پہنچ چکی ہے، اس سے آگے بڑھنا ضروری نہیں۔خدا تعالیٰ اگر تمہیں دوسروں سے شیر جتنا بلند کرنا چاہتا ہے تو ایک بلی یا اس سے کچھ اوپر نکلنے سے وہ خوش نہیں ہوگا۔اگر وہ تمہیں شیر جتنا بلند کرنا چاہتا ہے تو ایک بلی جتنا بلند ہونے سے کیا بنے گا؟ دوسروں سے زیادہ قربانی کرنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ قربانی کی جائے ، جس سے اسلام دوبارہ کھڑا ہو جائے۔اگر تم اس سے دھاگہ بھر بھی نیچے رہو گے تو تم اپنے ہاتھوں سے اس مشن کو کمزور کر دو گے، جس کے لئے خدا تعالیٰ نے تمہیں کھڑا کیا ہے۔( مطبوعه روزنامه افضل 16 ستمبر 1951ء) 223