تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 363
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 22 جنوری 1954ء لے چلیں اور آپ نے وہاں جانا منظور کر لیا تو آپ نے فرمایا، میں جب مدینہ آجاؤں گا تو تمہارا کام ہوگا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو تو تم دشمن کا مقابلہ کرو اور اگر لڑائی مدینہ سے باہر ہو تو دشمن کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری تم پر عائد نہیں ہوگی۔اب یہ ایک احتمالی بات تھی ، یقینی نہیں تھی۔اور چونکہ یہ ایک دور کا خیال تھا، اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر کا خیال نہیں کیا اور مدینہ والوں نے بھی کہہ دیا کہ ہاں مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے لیکن باہر نہیں۔ہجرت کے بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ اسلام کو بچانے کی خاطر مسلمانوں کو مدینہ سے باہر جا کر بھی لڑنا پڑا۔چنانچہ جنگ بدر ہی مدینہ سے باہر کئی منزلوں پر جا کر لڑی گئی۔جب آپ جنگ کے لئے باہر نکلے تو پہلے یہ خیال تھا کہ ایک قافلہ سے مقابلہ ہوگا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ لڑائی مکہ سے آنے والے ایک باقاعدہ لشکر سے ہوگی۔اس پر آپ نے خیال فرمایا کہ مدینہ والوں سے تو یہ معاہدہ تھا کہ انہیں مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا ، مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوگی۔جب آپ لڑائی کے لئے باہر نکلے تو آپ کے ساتھ مہاجرین بھی تھے اور انصار بھی۔آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا تم مجھے مشورہ دو کہ دشمن سے لڑائی کی جائے یا نہیں؟ آپ کا منشاء تھا کہ آپ کے سوال کے جواب میں انصار بولیں گے کہ معاہدہ کے وقت ہم سے یہ شرط کی گئی تھی کہ مدینہ پرحملہ ہونے کی صورت میں ہم مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کریں گے، مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں ہم اس کا مقابلہ کرنے کے پابند نہیں ہوں گے، اب آپ بغیر بتائے ہمیں یہاں لے آئے ہیں، یہ بات اس معاہدہ کے خلاف ہے۔بہر حال آپ نے جب مشورہ پر زور دیا تو مہاجرین نے مشورہ دیا کہ اگر دشمن حملہ کرتا ہے تو ہمارے لئے اس کا مقابلہ کرنے کے سوا اور کیا چارہ ہے؟ انصار خاموش بیٹھے رہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کے بار بار کھڑا ہونے اور مشورہ دینے کے بعد فرماتے ، اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ اب کیا کیا جائے؟ اس وقت ایک انصاری رئیس کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! لوگ آپ کو مشورہ تو دے رہے ہیں لیکن پھر بھی آپ یہی فرمارہے ہیں ، اے لوگو! مجھے مشورہ دو، اے لوگو مجھے مشورہ دو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ کی غرض یہ ہے کہ ہم بھی بولیں۔یا رسول اللہ ! ہم اب تک اس لئے نہیں بولے کہ حملہ آور مہاجرین کے بھائی بند ہیں۔ان میں کوئی تو مہاجرین کا بھائی ہے، کوئی چچا ہے اور کوئی بھتیجا ہے۔ہمارا ان سے لڑائی کا مشورہ دینا خلاف اخلاق تھا۔کیونکہ اگر ہم یہ مشورہ دیتے کہ ہم حملہ آوروں سے لڑیں گے تو مہاجرین کہتے ، یہ لوگ ہمارے بھائی بندوں کے قتل کے شوقین ہیں۔اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ مہاجرین بول لیں۔کیونکہ 363