تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 318
خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم دیکھنے کے لئے جاتے ہیں، اسی طرح وہ مسجد دیکھنے کے لئے جاتے ہیں۔اور جب وہ جاتے ہیں تو ان کا امام سے تعلق ہو جاتا ہے اور تبلیغ اسلام کا رستہ کھل جاتا ہے۔جب تک ہماری جماعت اپنے اس فرض کو نہیں سمجھتی ، اس وقت تک اس کا یہ امید کر لینا کہ وہ اسلام کو دنیا پر غالب کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ، غلط ہے۔اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوگی، جیسے چھپکلی کی دم کاٹ دی جائے تو وہ دم تھوڑی دیر کے لئے تڑپ لیتی ہے، لیکن پھر ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے۔ہمیں سوچنا چاہئے ، آیا تو ہماری غرض صرف اتنی ہی تھی کہ ہم دنیا میں شور مچادیں۔اور اگر یہی ہماری غرض تھی تو یہ کام ہم نے کر لیا ہے، اب ہمیں کسی مزید کام کی ضرورت نہیں۔اور یا پھر ہماری غرض یہ تھی کہ ہم دنیا میں اسلام پھیلا ئیں۔اور اگر یہی ہماری غرض ہے تو اس کے لئے متواتر قربانیوں اور جدوجہد اور نیک نمونہ کی ضرورت ہے۔اور ہماری تبلیغ تھی کا میاب ہو سکتی ہے، جب ہمارا عملی نمونہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہو۔اگر ہمارے اندر دیانت پائی جاتی ہے، اگر ہمارے اندر سچائی پائی جاتی ہے، اگر ہمارے اندر نیک چال چلن پایا جاتا ہے، اگر ہمارے اندر معاملات کی صفائی پائی جاتی ہے تو ہر شخص ، جو ہمیں دیکھے گا ، وہ سمجھے گا کہ اس جماعت کے ساتھ مل کر دین کی خدمت کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر ہمارا نمونہ اچھا نہیں تو وہ کہے گا کہ دور کے ڈھول سہانے“۔باتیں تو ہم بڑی سنتے تھے لیکن پاس آکر دیکھا تو ہمیں معلوم ہوا کہ اس کا پھل ایسا میٹھا نہیں۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور چندہ مساجد کی تحریک میں حصہ لو۔اگر ہماری جماعت کے تمام لوگ اس چندہ میں حصہ لینا شروع کر دیں تو ہر سال ایک خاص رقم اس غرض کے لئے جمع ہو سکتی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ جہاں پاکستان کی اور سب جماعتوں میں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے، وہاں اس جگہ ہر شخص اپنے آپ کو چودھری سمجھتا ہے۔اور وہ خیال کرتا ہے کہ یہ تحریکات دوسروں کے لئے ہیں، اس کے لئے نہیں۔اب میں اس سفر میں دیکھوں گا کہ یہاں کی جماعتوں نے اس چندہ میں کس حد تک حصہ لیا ہے؟ اسٹیوں کے دورہ کے وقت مالکان زمین کے متعلق بھی یہ دیکھا جائے گا کہ انہوں نے اس تحریک میں کتنا حصہ لیا ہے؟ اور دوکانداروں کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ انہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے یا نہیں لیا ؟ آخر وہ تجارت کرتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔وہ بتائیں کہ اس عرصہ میں انہیں کوئی آمدنی ہوئی ہے یا نہیں؟ کوئی نفع ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہوا ہے تو انہوں نے خدا کا حق کیوں ادا نہیں کیا؟ چھوٹے تاجروں کو یہ کہا گیا تھا کہ وہ ہر ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دیا کریں۔فرض کرو، ان کے ایک دن میں نہیں سودے ہوتے ہیں تو سات دن میں ایک سو چالیس سودے ہوئے ، اور چونکہ ہفتہ کے ایک دن کے 318