تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 72

خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم دوسرے سال کا بجٹ بنانا ضروری ہوتا ہے۔اور اگر وعدے دیر سے آئیں تو ان سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔پس مناسب یہی ہے کہ دسمبر کے خاتمہ تک دوست اپنے اپنے وعدے لکھوا دیں۔لیکن کسی مشکل کی وجہ سے کوئی فرد یا جماعت رہ جائے تو وہ اپنا وعدہ دس فروری تک بھیج دے۔جس خط پر دس فروری کی مہر ہوگی ، وہ قبول کر لیا جائے گا۔گزشتہ سال مشرقی پنجاب کے فسادات اور تباہی کی وجہ سے دوست اس میں اچھی طرح حصہ نہیں لے سکتے تھے لیکن اب ان میں سے ایک حصہ آباد ہو چکا ہے۔بلکہ ان میں سے اکثر آباد ہو چکے ہیں اور ان کی مالی حالت آگے سے بہت اچھی ہے۔کیونکہ ہندؤوں کی بھی تجارتیں اور کارخانے انہیں مل گئے ہیں۔اور ان میں سے بعض آگے سے دس دس ہیں ہیں گنے زیادہ کمارہے ہیں۔مجھے بعض لوگوں کا حال معلوم ہے، مشرقی پنجاب میں وہ اگر سات، آٹھ ہزار کا مال لٹا کر آئے تھے تو آج وہ آٹھ ، دس لاکھ کے مال بن گئے ہیں۔یہ عجیب قسم کی تقسیم ہوئی ہے، خدا کی دین ہے۔ایک شخص کے بارے میں نے سنا، وہ قادیان کا ایک تاجر تھا، چھابڑی پر رکھ کر چیزیں بیچا کرتا تھا، اس کی ماہوار آمدنی تمہیں، چالیس روپے ہوگی۔ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہ رستہ میں جار ہا تھا کہ ایک موٹر پاس سے گزرتی ہوئی آئی اور میرے پاس ٹھہر گئی۔وہی شخص موٹر سے اترا اور کہا، میں نے تمہیں دیکھا تو سلام کرنے کے لئے ٹھہر گیا۔چونکہ میرا کام زیادہ ہوتا گیا ہے، اس لئے میں نے بائیس ہزار کی موٹر خرید لی ہے تا چلنے پھرنے میں آسانی رہے۔تو دیکھو حالات کہاں سے کہاں بدل گئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض دوست ایسے بھی ہیں، جواب تک پراگندہ پھر رہے ہیں۔ابھی رپورٹ آئی ہے کہ ایک احمدی کہیں جارہے تھے کہ تحصیلدار نے ان کا مال چھین لیا۔یہ ایک ایسے ضلع کا واقعہ ہے، جہاں ڈی سی احمدی ہے۔جس سے ہم زیادہ دیانت داری اور محنت کی امید کرتے ہیں۔اس خرابی سے ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ دوسری جگہوں پر کیا ہورہا ہوگا۔بہر حال جماعت کا اکثر حصہ وہ ہے، جو اپنے اپنے کاموں میں لگ گیا ہے۔اور اگر ادھر ان کی زمینیں بارانی تھیں تو ادھر انہیں نہری زمینیں مل گئی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگ جو اس طرف آسودہ تھے اور ان کی پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ گھماؤں زمین تھی ، وہ اب غریب ہو گئے ہیں۔اب انہیں آٹھ ، دس گھماؤں زمین ملی ہے۔مگر اکثر ایسے ہیں، جن کی ادھر دو، دو کنال زمین تھی اور اب انہیں دس، دس ایکٹر زمین مل گئی ہے۔کیونکہ ان کے گھر کے افراد دس تھے۔ہمارے ایک مخلص دوست ہیں، جو پھیر و پیچی کے رہنے والے ہیں۔میں ایک دفعہ پھیر و پیچی گیا۔میری بھی اس کے قریب زمین تھی اور میں تبدیلی آب و ہوا کے لئے وہاں جاتا تھا۔وہ میرے پاس آئے اور کہا حضور دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ میری تکلیف کم کر دے۔انہیں لوگ مولوی 72