تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 69
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سو خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1948ء ہے۔مثلاً اس وقت ہمارے پچاس کے قریب مبلغ ہیں۔پچاس تو میرے ذہن میں ہیں اور یہ وہ ہیں، جو یہاں سے گئے ہیں۔اس سے کم نہیں، زیادہ ہی نکلیں گے۔اور مقامی مبلغ ، جو کام کر رہے ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں۔ان ممالک کی رہائش کا اگر اندازہ رکھا جائے تو ان کے کھانے پینے اور مکان کا خرچ 20 پونڈ ہے اور یہ کم از کم ہے۔اس کے بعد تبلیغ کے اخراجات ہیں، لڑ پچر ہے ، خط وکتابت ہے ، 20 پونڈ کے قریب اس پر خرچ آجاتا ہے اور یہ چالیس پونڈ فی کس بنتا ہے۔اور 40 کے یہ معنی ہوئے کہ کل مبلغ 50 ہیں۔گو وہ مبلغ ان کے علاوہ ہیں، جو مقامی طور پر اپنے علاقوں میں بطور مبلغ کام کر رہے ہیں۔اگر ان کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ سو سے زیادہ بن جاتے ہیں۔اگر چالیس پونڈ فی کس خرچ کیا جائے تو دو ہزار پونڈ بنتا ہے۔اور اگر روپے کے حساب سے لیا جائے تو چھبیس ہزار روپے بنتے ہیں اور اگر اسے بارہ سے ضرب دیں تو یہ تین لاکھ سے اوپر بنتا ہے۔یہ ادنیٰ سے ادنی خرچ ہے، جو ان پر ہونا چاہئے۔پھر اگر جلسے کئے جائیں، یہاں لاہور میں ہی اگر کوئی جلسہ کیا جائے تو اس کے اعلان اور دوسرے انتظامات پر سو، ڈیڑھ سوروپیہ سے زیادہ خرچ ہو جائیں گے ، اگر دوسرے ممالک میں فی جلسہ کا خرچ تین، چار سو ر کھا جائے اور سال میں بارہ جلسے کئے جائیں تو سال میں ہر مشن کا جلسوں کا خرچ چار ہزار اور ساڑھے چار ہزار ہو جاتا ہے۔پچاس مشنوں میں یہ خرچ دولاکھ کا ہو جاتا ہے۔پھر اگر صحیح طور پر لٹریچر اور اشاعت کا کام کیا جائے تو کسی مشن کا خرچ دس، بیس پونڈ ماہوار سے کم نہیں ہو سکتا۔یہ رقم ایک لاکھ 25 ہزار روپے سالانہ کی ہوتی ہے لیکن در حقیقت چار، پانچ لاکھ روپیہ سالانہ اشاعت لٹریچر کا خرچ ہونا چاہیے۔پس اگر صحیح طور پر تبلیغ کی جائے تو صرف موجودہ مشنوں کا خرچ نو لاکھ کے قریب سالانہ ہونا چاہیے۔اسی طرح بیرونجات کے لیے مبلغ بھی تیار کرائے جاتے ہیں اور انہیں بھی تحریک ہی خرچ دیتی ہے۔یہ بھی کوئی ڈیڑھ لاکھ کے قریب بنتا ہے، بیسیوں لڑکے ہیں، جنہیں تعلیم دی جارہی ہے۔کیونکہ بنے بنائے مبلغ نہیں مل سکتے۔ان لڑکوں میں سے کوئی ایف اے میں پڑھ رہا ہے، کوئی بی۔اے میں پڑھ رہا ہے، کوئی ایم۔اے میں پڑھ رہا ہے۔بہت سے مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہے ہیں۔بہت سوں کو دین کی تعلیم پرائیویٹ دلوائی جارہی ہے۔بہت سے غرباء کے لڑکے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیوں کو وقف کیا ہوا ہے۔کوئی لڑکا نویں جماعت میں پڑھتا ہے، اس کے ماں باپ غریب ہیں اور وہ کہتے ہم زیادہ سے زیادہ انٹر پاس کروا سکتے ہیں یا لڑکا آٹھویں میں پڑھتا ہے، والدین کہتے ہیں کہ ہم میں آگے پڑھوانے کی ہمت نہیں۔ہم نے دیکھالڑ کے ذہین ہیں تو ہم نے انہیں اپنے خرچ پر پڑھوانا شروع کر دیا۔غرض درجنوں ایسے لڑکے ہیں، جو تحریک کے 69