تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 68

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم ملا یا ایک اور جگہ ہے، جہاں ہمارا مشن قائم ہے۔سنگا پور میں بھی بہت بڑی جماعت قائم ہے اور اس کے ارد گرد بھی۔مگر افسوس کہ یہاں کے مبلغوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا ہے۔اگر وہ صحیح طور پر کام کریں تو یہ ایک اہم جگہ ہے۔مشرق و مغرب کے درمیان رستہ پر یہ ایک اہم مقام ہے۔اگر کوشش کی جائے تو مشرق و مغرب میں ترقی کے لیے بہت سی سہولیات پیدا ہو سکتی ہیں۔پھر بور نیو کا علاقہ ہے، جو قریبا نصف ہندوستان کے برابر ہے۔مگر آبادی بہت کم ہے۔اس میں بھی ہمارے مبلغ گئے ہیں۔اور بعض علاقہ میں لوگ احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں اور اچھا اثر پڑ رہا ہے۔مجھے ایک کارڈ ملا ہے، جس پر ایک جنگل کی خوبصورت تصویر ہے۔اس میں صرف یہ لکھا ہوا ہے کہ آپ کے زمانہ میں ، جس میں اسلام کی تعلیم ہر طرف پھیل رہی ہے، کیا بالی جزیرہ اس سے محروم رہے گا ؟ لکھنے والا کوئی غیر احمدی ہے۔اس نے اردگر د تبلیغ دیکھ کر مجھے خط لکھ دیا ہے۔بالی جزیرہ کے لوگ فوجی اور بہادر ہیں۔وہاں ابھی تک تبلیغ نہیں ہوئی۔معلوم ہوتا ہے کہ اردگر تبلیغ ہوتی دیکھ کر اس نے مجھے لکھ دیا۔مگر معلوم نہیں کہ اسے میرا پتہ کہاں سے ملا ؟ بہر حال احمدیت خود بخود پھیل رہی ہے۔اس طرح امریکہ کے جزائر ہیں، جنہیں ویسٹ انڈیز بھی کہا جاتا ہے۔ان جزائر میں بھی تبلیغ شروع ہے۔وہاں سے بھی خطوط آرہے ہیں اور وہ مبلغ مانگ رہے ہیں۔اور وہاں مبلغ بھیجنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔صرف کا بل کا علاقہ ہے، جو بند پڑا ہے۔مگر اب احمدیت کی تبلیغ اس طرح ہو رہی ہے کہ وہاں بھی اس کا اثر پڑے گا۔غرض سارے پردہ زمین پر تحریک جدید کے ماتحت تبلیغ کو پھیلانے کی سکیمیں بن رہی ہیں اور اس کے لیے اربوں ارب روپے بھی تھوڑے ہیں۔در حقیقت ہمارے مبلغ بہت کم گزارے پر کام کر رہے ہیں۔بلکہ خشک روٹی پر گزارہ کر رہے ہیں۔” الفضل میں ایک غیر احمدی کیپٹن کا خط شائع ہوا تھا۔جنہوں نے لکھا تھا، میں جہاں جماعت احمدیہ کے نوجوانوں کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں اور باہر نکل گئے، وہاں مجھے جماعت پر افسوس ہے، جس نے اس بات پر کبھی بھی غور نہیں کیا کہ اس کے مبلغ باہر کھا کیا رہے ہیں؟ باوجود غیر احمدی ہونے کے، جس دکھ میں، میں نے انہیں دیکھا ہے، اس سے مجھے خیال ہوا کہ میں جماعت کی توجہ اس طرف پھر اؤں کہ وہ کم از کم انہیں کھانے کو اتنا تو دے، جس سے ان کا پیٹ بھر سکے اور پہنے کو اتنا تو دے، جس سے وہ اپنا تن ڈھانپ سکیں اور تبلیغ کا کام صحیح طور پر کرسکیں۔بہر حال ہم ادنیٰ سے ادنی طور پر بھی خرچ کریں تو ہمارا خرچ کروڑوں تک جا پہنچتا 68