تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 67

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1948ء ملک میں یا جہاں انہیں مقرر کیا جائے تبلیغ کریں۔اسی طرح دو اور افراد کی طرف سے بھی ہالینڈ اور جرمن سے وقف زندگی کے لیے درخواستیں آئی ہیں اور ہم ان پر غور کر رہے ہیں۔اگر فیصلہ ہو گیا تو وہ بھی اپنا نام خدمت دین کے لیے پیش کر دیں گے۔یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ میں پہلے ہمارا ایک مبلغ ہوا کرتا تھا، اب ہمارے وہاں تین مبلغ تھے، جن میں سے ایک فوت ہو گیا ہے۔اس کی جگہ وہاں ہم ایک اور مبلغ بھجوا رہے ہیں۔وہاں کی جماعت بہت منظم ہوتی چلی جاتی ہے۔وہاں کی جماعت کا سب قسم کا چندہ اب تمیں چالیس ہزار تک پہنچتا ہے۔ظاہری طور پر یہ کوئی بڑی چیز نہیں۔لیکن وہاں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا۔اور اب کوشش کر رہے ہیں کہ اپنا بوجھ خود ہی اٹھائیں۔اور اگر یہ سکیم جاری ہوگی تو قلیل عرصہ میں وہاں کا مشن مضبوط ہو سکے گا اور وہاں کے مقامی آدمی بھی تیار ہوسکیں گے۔پھر تحریک جدید کے ماتحت ارجنٹائن میں مشن قائم کیا گیا ہے۔اگر چہ وہاں کوئی مقامی احمدی نہیں ہوا لیکن عربوں میں سے بعض احمدی ہوئے ہیں۔اب وہاں ہمارا ایک اور مبلغ جا رہا ہے۔ہم نے پہلے ایک مبلغ بھیجا تھا لیکن وہ انگلینڈ میں بیمار ہو گیا تھا اور وہ اب تک وہ وہاں ہی ہے۔اب نیا مبلغ بھجوایا جا رہا ہے اور اس کے لیے پاسپورٹ کی کوشش ہو رہی ہے۔تحریک جدید کے ماتحت سابق میں ہنگری میں، یونان میں، یوگوسلاویہ میں ، پولینڈ میں اور چیکوسلواکیہ میں مشن قائم کئے گئے تھے۔مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے وہ مشن بند کر دیئے گئے اور اس کے بعد جنگ کی وجہ سے دوبارہ مبلغ نہ بھجوائے جاسکے۔مگر بہر حال وہاں احمدیت کا بیج بویا جا چکا ہے۔اب بعض لوگوں کی وہاں سے چٹھیاں آئی ہیں کہ جنگ کی وجہ سے ہمارے تعلقات مرکز سے منقطع ہو گئے تھے ، اب ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس لٹریچر آئے تو ہم تبلیغ کے کام کو وسیع کریں۔اس کے بعد انڈونیشیا کے علاقے ہیں۔جاوا ، سماٹر اوغیرہ۔جو آج کل عام مرجع توجہ بنے ہوئے ہیں اور دیر سے وہاں جنگ جاری ہے۔وہاں ہمارے صرف ایک ہی مبلغ مولوی رحمت علی صاحب تھے۔تحریک جدید کے ماتحت جاوا میں اور مبلغ بھیجے گئے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہزاروں ہزار لوگ احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں۔جن میں سے بعض بہت ہی بارسوخ ہیں۔جن کا حکومت کے ساتھ بھی تعلق ہے۔امید کی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے استقلال سے کام لیا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت بہت ترقی کر جائے گی۔ہمارے تعلقات جاوا سے ہیں۔سماٹرا سے خط و کتابت بند ہے۔کیونکہ وہاں کمیونسٹ فتنہ بہت بڑھا ہوا ہے۔67