تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 64

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم علاقہ ہے۔وہاں پہلے بھی کام کافی ہو ہاتھ مگر تحریک جدید کے ذریعہ کام اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔پہلے وہاں حیفہ میں جماعت تھی یا اس کے پاس پہاڑی پر جماعت رہتی تھی۔لیکن بعد میں آہستہ آہستہ اردگرد کے علاقوں میں پھیلی۔یہ حالت بھی تباہی سے پہلے تھی ، جواب وہاں آئی ہے۔مشرقی پنجاب پر جیسے تباہی آئی، ویسے ہی یہودیوں کے حملہ کی وجہ سے فلسطین پر آئی ہے۔اور خطر ناک جگہ وہی تھی ، جہاں ہماری جماعت تھی۔حیفہ کا کچھ حصہ فسادات سے پہلے ہی مشن چلا گیا تھا، باقیوں کے متعلق کوئی اطلاع نہیں آئی۔چوہدری محمد شریف صاحب نے ، جو وہاں کے مشنری انچارج تھے، وقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے بڑی ہوشیاری سے کام کیا اور اپنا ایک مبلغ شرق اردن بھجوادیا اور اسے ہدایت کی کہ پتہ نہیں ہمارا کیا حال ہو؟ تم وہاں جا کر نیا مرکز بنانے کی کوشش کروں۔گویا انہوں نے وہی تدبیر اختیار کی ، جو ہم نے قادیان سے نکلنے کے وقت اختیار کی تھی۔اور اپنا ایک ساتھی شرق اردن میں بھجوا دیا۔اسے گئے ہوئے سات آٹھ ماہ ہو گئے ہیں یا سال بھر کے قریب ہو گیا ہے لیکن ابھی تک وہاں جماعت قائم نہیں ہوئی ، جماعت کا اثر ورسوخ پیدا ہورہا ہے۔شام میں کسی وقت ہمارے مبلغ گئے تھے لیکن کافی عرصہ سے یہ میدان خالی پڑا تھا۔تحریک جدید کے ماتحت شیخ نوراحمد صاحب کو وہاں بھیجا گیا۔ان کے ذریعہ جماعت میں ایک خاص بیداری پیدا ہو رہی ہے۔وہاں کے دوست منیر الحصنی صاحب مقامی احمدی ہیں، جو کہ نہایت ہی مخلص اور اچھے تعلیم یافتہ ہیں۔انہوں نے یورپ میں فرانس وغیرہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔وہ آسودہ حال اور تاجر ہیں۔ان کے چھوٹے بھائی دمشق کے سب سے بڑے تاجر ہیں اور ان کے بھائی کی قاہرہ (مصر) میں ایک بڑی دکان ہے۔ان کے خاندان کے سب افراد احمدی ہو گئے ہیں اور بہت مخلص اور قربانی کرنے والے لوگ ہیں۔ہمارے مبلغ کے وہاں جانے کی وجہ سے اور برادر منیر الحصنی صاحب کے قادیان میں رہ جانے کی وجہ سے، وہاں کی جماعت میں ایک خاص احساس اور بیداری پیدا ہو چکی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھا اثر پیدا ہوا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ دوسرے ممالک کے خلاف یہاں تعلیم یافتہ اور با اثر لوگوں میں تبلیغ کا زور بڑھ رہا ہے۔یہ شام وہی ہے، جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے الہام فرمایا تھا کہ يَدْعُوْنَ لَكَ أَبْدَالُ الشَّامِ شام کے ابدال تیرے لیے دعا کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شام کی جماعت اس وقت قائم ہوگی جبکہ جماعت احمدیہ پر ایک ابتلاء آنے والا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں اور قریب ہی کے عرصہ میں پنجاب اور فلسطین میں، جس میں سب سے پہلے بڑی جماعت قائم ہوئی تھی ، ، قائم 64