تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 720 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 720

اقتباس از خطاب فرموده 28 دسمبر 1960ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد سوم سال تھی ، میاں بشیر احمد صاحب کی عمر اکیس ، ساڑھے اکیس سال تھی۔اسی طرح ہمارے سارے آدمی ہیں اور تمیں سال کے درمیان تھے۔مگر ہم سب نے کوشش کی اور محنت سے کام کیا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے جماعت کے کام کو سنبھال لیا۔اسی طرح اب بھی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کا تہیہ کر لیں اور دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں۔اگر کسی نے صرف بی۔اے اور ایم۔اے کر لیا اور دینی تعلیم سے کو رار رہا تو ہمیں اس کی دنیوی تعلیم کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ غیر مبائعین کے الگ ہونے کے بعد میرے ساتھ جتنے نو جوان رہ گئے تھے، وہ کالجوں میں بھی پڑھتے تھے مگر وقت نکال کر دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔چنانچہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور صوفی غلام محمد صاحب اپنے پرائیویٹ اوقات میں دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ایم۔اے اور بی۔اے بھی کرلیا اور دینی تعلیم بھی مکمل کرلی۔میں سمجھتا ہوں، اگر اب بھی ہم پوری طرح اس طرف توجہ دیں تو چند سال کے بعد ہی ہمیں ایسے مخلص نوجوان ملنے شروع ہو جائیں گے، جو انجمن اور تحریک کے کاموں کو سنبھال سکیں گے۔پس سلسلہ کی ضروریات اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے حوصلوں کو بلند کرو۔اگر انسان کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہی اپنے حوصلہ کو گرا دے اور سمجھے کے میں کچھ نہیں کر سکتا تو یہ اس کی غلطی ہوتی ہے۔بیشک ایک انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ دنیا کو ہلا سکے۔لیکن وہ دنیا کو ہلانے کا ارادہ تو کر اگر تم اپنے حوصلوں کو بلند کرو گے اور سنتی اور غفلت کو چھوڑ کر اپنے اندر چستی پیدا کرو گے تو تھوڑے عرصہ میں ہی تم میں سے کئی نوجوان ایسے نکلیں گے، جو پہلوں کی جگہ لے سکیں گے۔میں نے تحریک جدید میں نو جوانوں کو لگا کر دیکھا ہے، وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔بلکہ شروع میں، میں جن کے متعلق سمجھتا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ اس کام کے اہل ثابت نہ ہو سکیں ، انہوں نے بھی جب محنت کی تو اپنے کام کو سنبھال لیا اور اب وہ خوب کام کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر عزم تھا اور انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہر ممکن کوشش کے ساتھ دین کی خدمت کریں گے۔آئندہ بھی ہماری جماعت کے نو جوانوں کو اپنی زندگیاں وقف کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔کیونکہ ہمیں اب سلسلہ کی ضروریات کے لئے بہت سے نئے آدمیوں کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس وقت ہمیں ایسے نوجوان درکار ہیں، جن کو ہم انگلستان، امریکہ اور دوسرے یورپین ممالک میں بھیج سکیں۔اس طرح افریقہ وغیرہ کے لئے ہمیں سینکڑوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔اس کے بعد ان کی جگہ نئے آدمی بھیجنے اور انہیں واپس بلانے کے لئے ہمیں اور آدمیوں کی ضرورت ہوگی اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جائے گا۔720