تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 718
اقتباس از خطاب فرموده 28 دسمبر 1960ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہمارے سپرد اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا ہے کہ ہم اس کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کریں۔اور یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے ، ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے ، اسے عاجزانہ طور پر عرض کریں کہ اے ہمارے آقا! دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ موجود تھے ، بڑے بڑے سیاست دان موجود تھے، بڑے بڑے مد بر موجود تھے، بڑے بڑے نواب اور رؤسا موجود تھے، بڑے بڑے فلاسفر اور بڑے بڑے حکماء اور علماء موجود تھے مگر تو نے ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے ، ہم غریبوں اور بے کسوں کو چنا اور اپنی بیش بہا امانت ہمارے سپرد کر دی۔اے ہمارے آقا! ہم تیرے اس احسان کو کبھی بھلا نہیں سکتے اور تیری اس امانت میں کبھی خیانت نہیں کر سکتے۔ہم تیری بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے شہروں اور ویرانوں میں پھریں گے، ہم تیرے نام کو بلند کرنے کے لئے دنیا کے کونے کونے میں جائیں گے اور ہر دکھ اور مصیبت کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو جائیں گے۔اگر ہم یہ عزم کرلیں اور دین کے لئے متواتر قربانیاں کرتے چلے جائیں تو یقینا اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور اسلام اور احمدیت کو دنیا میں غالب کر دے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم سخت کمزور اور ناطاقت ہیں مگر ہمارے خدا میں بہت بڑی طاقت ہے۔اور خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب اس کے بندے اس کی راہ میں خوشی سے موت قبول کر لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ انہیں دائمی حیات عطا کر دیتا ہے اور لوگوں کے قلوب ان کی قربانیوں کو دیکھ کر صاف ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔گویا ان کا خون جماعت کی روئیدگی کے لئے کھا د کا کام دیتا ہے، جس سے وہ بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔پس ہماری جماعت کے ہر بچے، ہر نو جوان، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارے سپر داللہ تعالی نے اپنی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کا جو اہم کام کیا ہے، اس سے بڑھ کر دنیا کی اور کوئی امانت نہیں ہو سکتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے گھروں کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں ، بعض لوگ بھیڑوں، بکریوں کے گلے کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں بعض لوگ گورنمنٹ کے خزانہ کا پہرہ دیتے ہوئے مارے جاتے ہیں اور بعض لوگ فوجوں میں بھرتی ہو کر اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔لیکن جو چیز اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کی ہے، اس کے مقابلہ میں دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔بلکہ ان کو اس سے اتنی بھی نسبت نہیں جتنی ایک معمولی کنکر کو ہیرے سے ہوسکتی ہے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں سرگرمی سے حصہ لو۔اس غرض کے لیے زیادہ سے زیادہ نو جوانوں کو خدمت دین کے لئے وقف کرو تا کہ ایک کے بعد دوسری نسل 718