تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 694 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 694

اقتباس از خطاب فرموده 01 نومبر 1958ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم پایا جاتا۔ہمارے ملک کی جو چیزیں ہیں، ان کے بیچنے کے لئے انہیں دوسری قوموں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔مگر بعض غیر ملکوں میں جن میں پونڈ پایا جاتا ہے، ایسی چیزیں ہیں، جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔مثلاً مغربی افریقہ میں سارا پونڈ ہیروں اور سونے کے ذریعہ سے آتا ہے۔اور ہیروں اور سونے میں کوئی اور پونڈ ان کا مقابلہ نہیں کرتی۔اس لئے لازما ان کے پاس بہت سا پونڈ بچ جاتا ہے اور اس سے ہمیں مد دل سکتی ہے۔پھر ہماری جماعت فلپائن میں بھی پیدا ہوگئی ہے اور ترقی کر رہی ہے۔اگر چہ وہ ترقی آہستہ آہستہ ہورہی ہے، لیکن بہر حال ہو رہی ہے۔پچھلے سال وہاں سے بیعت کا خط آیا۔مجھے افسوس ہے کہ وہ گھر میں پڑا رہا۔میں تو بیماری کی وجہ سے خط نہیں پڑھ سکتا، اس لئے وہ کہیں پڑا رہا۔اب کے وہ خط نکلا تو معلوم ہوا کہ وہ بیعت ایک گورنر کی تھی۔مگر ادھر خط ملا اور ادھر معلوم ہوا کہ وہ بچار اقتل بھی ہو گیا ہے۔اب اس کے خط کے ملنے کا یہی فائدہ ہوا ہے کہ وکیل التبشیر نے کہا ہے کہ ہم اس کے بیوی بچوں کو ہمدردی کا خط لکھ دیتے ہیں۔پہلے ہم سمجھتے تھے کہ گورنر کہاں سے آگیا، کوئی ڈپٹی کمشنر ہو گا ؟ مگر اب وہاں سے جو طالب علم آیا ہوا ہے، اس نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے جزیرے ہیں، ان جزیروں پر گورنر مقرر ہوتا ہے ، ڈپٹی کمشنر نہیں ہوتا۔اس نے بتایا کہ بیعت کا خط لکھنے والا گورنر ہی تھا مگر وہ تو اب شہید ہو گیا ہے۔اب اس کی جگہ ایک نائب گورنر نے بیعت کر لی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ میں بھی ترقی ہوئی ہے۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو امریکہ اور فلپائن وغیرہ علاقوں میں جماعت کو اور بھی ترقی ہو جائے گی۔اور اس طرح ڈالر کی آسانی ہو جائے گی۔امریکہ میں تبلیغ کا یہ اثر بھی ہے کہ دوسرے کئی ملکوں میں بھی ہماری تبلیغ کا اچھا اثر پڑ رہا ہے۔چنانچه مولوی نورالحق صاحب انور ، جو حال ہی میں امریکہ سے آئے ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ مصر کا جو وائس قونصل تھا، اس کے جبڑے میں دردتھی ، اس نے آپ کو دعا کے لئے خط لکھا تھا لیکن اس کو آپ کا جواب نہیں پہنچا۔میں نے دفتر والوں سے خط نکالنے کے لئے کہا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ خط نہیں ملا۔لیکن اب پرسوں یا ترسوں اس کا دوسرا خط آیا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ غالباً میرا پہلا خط نہیں پہنچا، اب میں دوسر اخط لکھ رہا ہوں۔میرے جبڑے میں درد ہے، آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ صحت دے۔(انصار الله کے جلسہ کے بعد مولوی نور الحق صاحب انور ملے تو انہوں نے بتایا کہ اب اس کے جبڑے کو آرام آچکا ہے۔بلکہ میرے یہاں آنے سے پہلے اسے آرام آچکا تھا۔اس لیے یہ خط پہلے کا لکھا ہوا معلوم ہوتا ہے۔انور صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وہ کرنل ناصر صاحب کا بچپن کا دوست ہے اور اس پر بہت اثر رکھتا ہے۔یہ امریکہ میں تبلیغ کا ہی اثر ہے۔694