تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 688
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اگست 1958ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اس پر عمل کیا تھا، انہوں نے تو فائدہ اٹھا لیا اور وہ کامیاب ہو گئے۔مگر جنہوں نے عمل نہ کیا، ان کے رشتہ دار اب تک غیر احمدی چلے آرہے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب ہماری جماعت اس وقت سے بہت بڑھ چکی ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر میری اس ہدایت پر عمل کیا جاتا اور ہر احمدی اپنے غیر احمدی رشتہ داروں میں تبلیغ پر زور دیتا تو اب تک ہر طرف احمدی ہی احمدی نظر آتے۔مثلاً انڈونیشیا ہے، وہاں 33 سال سے تبلیغ ہورہی ہے۔1925 ء سے وہاں تبلیغ شروع ہوئی تھی اور اب 1958ء ہے۔گویا 33 سال وہاں تبلیغی مشن کے قائم ہونے پر گزر چکے ہیں۔لیکن وہاں کے احمدیوں کی تعداد کے متعلق میں نے اپنے لڑکے مرزا رفیع احمد سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ انڈونیشیا میں چندہ دینے والے تو صرف بارہ ہزار ہیں لیکن اگر ان لوگوں کو بھی شامل کر لیا جائے، جو ہماری جماعت سے ہمدردی رکھتے ہیں تو 24 ہزار سمجھے جاسکتے ہیں۔حالانکہ اس ملک کی آبائی آٹھ کروڑ ہے اور 33 سال سے وہاں تبلیغ ہورہی ہے۔اگر صحیح معنوں میں وہاں تبلیغ کی جاتی تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں چھ سات کروڑ احمدی ہونے چاہئے تھے۔مگر اب تک وہاں صرف بارہ ہزار احمدی ہوئے ہیں۔پھر وہاں کی جماعت نے قطع نظر اس کے کہ میں بیمار ہوں اور میرے لئے لمبا سفر کرنا مشکل ہے، یہ ریزولیوشن پاس کر کے مجھے بھجوا دیا کہ آپ انڈو نیشیا تشریف لائیں۔حالانکہ میری یہ حالت ہے کہ باوجود اس کے کہ ڈاکٹر مجھے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ پھر علاج کے لئے یورپ جائیں، میں یورپ کا سفر بھی اختیار نہیں کرتا۔پھر میں انڈونیشیا کس طرح جا سکتا ہوں؟ لیکن بعض دفعہ انسان موت کے منہ میں بھی اپنے آپ کو ڈالنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے، بشرطیکہ وہ خوش ہو۔مگر میں ایسی جماعت سے کیا خوش ہو سکتا ہوں، جس نے 33 سال کے عرصہ میں صرف بارہ ہزار احمدی بنائے“۔بہر حال قرآن کریم نے تبلیغ کرنا، ہر شخص کا فرض قرار دیا ہے۔اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ دو طرح ہوتی ہے۔ایک تو اس طرح کہ بعض خاص خاص لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے وقف کر دیتے ہیں، جن کے لئے قرآن کریم میں عاکفین اور مہاجرین کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور ایک تبلیغ اس رنگ میں ہوتی ہے کہ ساری جماعت، جب بھی اسے موقع ملے تبلیغ میں حصہ لینے کے لئے تیار رہتی ہے۔گویا ایک خاص لوگوں کی جماعت ہوتی ہے اور ایک عام لوگوں کی جماعت ہوتی ہے۔عام جماعت کے افراد کو بھی قرآن کریم کہتا ہے کہ تم صرف واقفین پر انحصار نہ رکھو بلکہ ساری جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ تبلیغ اسلام کرے اور بغیر استثناء کے ان کا ہر فرد اس میں حصہ لے۔اگر ہماری جماعت کے افراد صرف اپنے رشتہ داروں کو ہی تبلیغ کریں اور ایک، ایک شخص کے ہیں، ہمیں رشتہ دار بھی سمجھے جائیں ، تب بھی 688