تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 679 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 679

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 10 جنوری 1958ء لاکھ سالانہ آمد ہو جاتی ہے اور اس سے ہم سارے مشنوں کا خرچ چلا سکتے ہیں۔طریق ہم بتائیں گے، کام کرنا ہمارے مبلغوں کا کام ہے۔اگر ان کو خدا تعالیٰ اسلام کی خدمت کا جوش دے اور وہ شیخ سعدی کے بیان کردہ واقعہ کو یادرکھیں تو یہ سکیم بہت اچھی طرح چلائی جاسکتی ہے۔کیونکہ جن لوگوں میں کام کرنے کی روح پائی جاتی ہو، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم حقیر اور ذلیل ہیں۔وہ صرف یہ بات جانتے ہیں کہ آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من آں منم کا ندرمیان خاک و خوں بینی سرے میں وہ نہیں ہوں کہ جس کی پیٹھ تو جنگ میں دیکھے۔بلکہ تو میرے سر کو میدان جنگ میں خاک و خون سے لتھڑا ہوا پائے گا۔ہماری جنگ تلوار کی جنگ نہیں بلکہ دلائل کی جنگ ہے۔اور دلائل کی جنگ میں جس شخص میں کام کرنے کی روح پائی جاتی ہو ، وہ یہی کہتا ہے کہ میں وہ نہیں ، جو دلائل کے میدان میں اپنی پیٹھ دکھاؤں بلکہ اگر مقابلہ کی صورت پیدا ہوئی تو میں سب سے آگے ہوں گا اور جب تک میری جان نہ چلی جائے ، میں قربانی کا عہد نہیں چھوڑوں گا“۔22 جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تو جماعت کے لوگوں نے مجھے لکھا تھا کہ ہم نے تو آپ کی تحریک کا یہ مطلب سمجھا تھا کہ سات ہزار روپیہ جمع کرنا ہے ،مگر اب وہ کام لاکھوں تک پہنچ گیا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میں نے آپ کی تحریک پر بہت سا چندہ لکھوا دیا تھا اور یہ سمجھا تھا کہ آپ نے صرف ایک ہی دفعہ چندہ مانگا ہے۔لیکن اب میں اپنا چندہ کم نہیں کروں گا بلکہ اپنے وعدہ کے مطابق دینے کی کوشش کروں گا۔اس کے علاوہ اور بھی کئی لوگ تھے ، جنہوں نے اس وقت سوسو، دود دوسو روپیہ چندہ لکھوا دیا تھا۔مگر بعد میں انہوں نے اس چندہ کو کم نہ کیا اور بڑھتے بڑھتے وہ سولہ سو، دو ہزار یا اڑھائی ہزار چندہ دینے لگ گئے۔وو پس ہمت کر کے آگے بڑھو اور وہی نمونہ دکھلاؤ کہ آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من اں منم کاندرمیان خاک و خوں بینی سرے دشمن تمہارے مقابلہ میں کھڑا ہے اور یہ جنگ روحانی ہے، جسمانی نہیں۔اس جنگ میں دلائل اور دعاؤں سے کام لینا، اصل کام ہے۔صحابہ " کو دیکھ لو، وہ تلواروں سے لڑتے تھے اور میدان جنگ میں ان کی گردنیں کٹتی تھیں مگر وہ اس سے ذرا بھی نہیں گھبراتے تھے۔679