تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 680
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 جنوری 1958ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جنگ احد کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے متعلق ہدایت فرمائی کہ اسے تلاش کرو، وہ کہاں ہے؟ صحابہ نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی لاش دوسری لاشوں کے نیچے دبی پڑی ہوئی ہے، اس لئے وہ کہیں ملی نہیں۔آپ نے فرمایا جاؤ اور پھر تلاش کرو۔چنانچہ بہت تلاش کے بعد وہ صحابی ملے، وہ نظمی تھے اور پیٹ پھٹا ہوا تھا۔تلاش کرنے والے صحابی نے کہا، اپنے رشتہ داروں کو کوئی پیغام پہنچانا ہے تو دے دو، ہم پہنچادیں گے۔وہ کہنے لگے اور تو کوئی پیغام نہیں، میرے عزیزوں تک صرف اتنا پیغام پہنچا دینا کہ جب تک ہم زندہ رہے، ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی۔اب یہ فرض تم پر ہے اور میری آخری خواہش یہ ہے کہ میرے خاندان کے سارے افرا در سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے، اپنی جانیں قربان کر دیں۔اگر تم ایسا کرو تو میری یہ موت خوشی کی موت ہوگی۔تو دیکھو، صحابہ نے تو عملی طور پر قربانیاں کی تھیں۔اور تمہاری مثال ایسی ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تھوک میں بڑے پکائے۔دلیلیں دینا کون سی بڑی بات ہے؟ دلیلیں دے کر گھر آگئے۔لیکن وہاں یہ ہوتا تھا کہ صحابہ میدان جنگ میں جاتے تھے اور پھر بسا اوقات انہیں اپنی بیوی بچوں کی شکل دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوتی تھی۔ایک عورت کے متعلق تاریخ میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو اس کے خاوند کو آپ نے کسی کام کے لئے باہر بھیجا ہوا تھا۔جب وہ صحابی مدینہ واپس آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف تشریف لے جاچکے تھے اور اس صحابی کو اس کا علم نہیں تھا۔وہ صحابی سیدھے گھر آئے۔اپنی بیوی سے انہیں محبت تھی۔وہ گھر میں گھسے اور بیوی انہیں نظر آئی تو انہوں نے آگے بڑھ کر اپنے جسم سے چمٹا لیا۔لیکن اس زمانہ کی عورتیں بھی اس زمانہ کے مردوں سے زیادہ مخلص ہوتی تھیں۔اس عورت نے خاوند کو دھکا دیا اور کہنے لگی، تجھے شرم نہیں آتی کہ خدا تعالیٰ کا رسول تو جان دینے کے لئے رومیوں کے مقابلہ کے لئے گیا ہوا ہے اور تجھے اپنی بیوی سے پیار کرنا سوجھتا ہے۔اس بات کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ اسی وقت اس نے اپنا گھوڑا پکڑا اور سوار ہو کر تبوک کی طرف چلا گیا۔اور کئی منزلوں پر جا کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر مل گیا۔تو اس قسم کی ہمت، اگر تم بھی اپنے اندر پیدا کر لو تو دین کی اشاعت کوئی مشکل امر نہیں۔چند دنوں کی بات ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت اترنے والی ہے۔اب یہ ناممکن بات ہے کہ زیادہ عرصہ تک آسمان اپنی مددکورو کے رکھے۔کوئی 26, 25 سال تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دشمنوں کی گالیاں سنیں، ان سے پتھر کھائے، اینٹیں کھائیں ، ماریں کھائیں لیکن تبلیغ جاری رکھی۔اس کے بعد قریباً پچاس 680