تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 671 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 671

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطاب فرمودہ 26اکتوبر 1957ء زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کریں اور اپنے آپ کو دینی تعلیم حاصل کر کے اس قابل بنائیں کہ انہیں غیر ملکوں میں بھیجا جا سکے۔اور جماعت کو میں تحریک کرتا ہوں کہ اگر ہمارے مبلغ بڑھتے گئے اور مسجد میں بڑھتی گئیں تو ہمارا خرچ بھی بڑھتا چلا جائے گا۔ایک مسجد پر دولاکھ روپیہ خرچ آتا ہے۔اور میری سکیم 50 ہزار مسجد بنانے کی ہے۔گویا ایک کروڑ روپیہ کی صرف غیر ملکی مساجد کے لئے ضرورت ہے۔تم یہ نہ سمجھو کہ ہماری جماعت غریب ہے۔میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے، جس سے خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی دلائی ہے کہ یہ غربت عارضی ہے اور ایسے سامان پیدا ہونے والے ہیں ، جن کے نتیجہ میں جماعت کو خدا تعالیٰ بہت کچھ مال دے گا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ زمینداروں کا ایک بہت بڑا گروہ ہے۔وہ زمیندار ایسے ہیں، جو مربعوں کے مالک ہیں۔وہ راجہ علی محمد صاحب کے پاس آئے اور ان سے انہوں نے مصافحہ کیا اور پھر ایک طرف چلے گئے۔میں ان کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ 60 ہزار ہو جائیں گے اور ان میں سے ہر شخص سال میں ایک ایک سور و پیہ بھی مساجد کے لئے دے تو 160 کھ روپیہ ہو جائے گا اور ساٹھ لاکھ سے ہیں مساجد بن سکتی ہیں۔اس رڈیا سے میں نے سمجھ لیا کہ اب خدا تعالیٰ اپنے فضل سے زمینداروں میں ہماری جماعت پھیلانا چاہتا ہے۔اور وہ بھی ایسے زمینداروں میں، جو کم سے کم ایک سو روپیہ سالانہ مساجد کے لئے دے سکیں۔مثلاً ہمارے ہاں مربعوں کے ٹھیکوں کی آمد تین تین، چار چار ہزار روپیہ ہے اور زمینداروں کا خرچ بہت کم ہوتا ہے۔اگر وہ خود کام کریں تو تین، چار ہزار کی بجائے وہ چھ ، سات ہزار روپیہ کما سکتے ہیں۔اور اس میں سے ایک سو روپیہ مساجد کے لئے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔چنانچہ میں خواب میں کہتا ہوں کہ اب یہ لوگ 60 ہزار ہو جائیں گے۔اور اگر ایک ایک سورو پی بھی یہ لوگ مساجد کے لئے دیں تو ساٹھ لاکھ ہو جائے گا۔اس کے بعد یک دم وہ آدمی تو میری نظروں سے غائب ہو گئے لیکن جانوروں کا ایک جھنڈ اڑتا ہوا میرے سر پر سے گزرا، وہ جانور موسمی معلوم ہوتے ہیں، جیسے مرغابیاں ہوتی ہیں۔یہ جانور ایک خاص ترتیب کے ساتھ چلتے ہیں۔میری نظر ان جانوروں پر پڑی اور میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بھی کیسی قدرتوں والا ہے۔اس نے ایسے جانور پیدا کئے ہیں کہ وہ ہیں تو انسانوں سے ادنی مگر ان کی تنظیم انسانوں سے اعلیٰ ہے۔اگر کوئی ایسا ذریعہ نکلے کہ ہم انسانوں میں بھی ان مرغابیوں والی تنظیم پیدا کرسکیں تو دنیا کو فتح کرنا، ہمارے لئے کتنا آسان ہو جائے۔گویا اس خواب کے دو حصے تھے۔پہلا حصہ زمینداروں والا تھا اور دوسرا حصہ جانوروں والا ہے۔وہ مرغابیاں ہیں یا کوئی اور جانور ہیں، میں نہیں جانتا مگر ہیں، فصلی جانور۔وہ اس ترتیب سے اڑتے جارہے ہیں 671