تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 667 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 667

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطاب فرموده 26 اکتوبر 1957ء غیر ممالک میں اسلام کی اشاعت کا واحد ذریعہ ہمارے پاس تحریک جدید ہی ہے خطاب فرمودہ 26اکتوبر 1957ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت بعد فرمایا:۔وَالتَّزِعَتِ غَرْقَالَ وَالنَّشِطَتِ نَشَطَان وَالشَّبِحَتِ سَبْحَانَ فَالشَّقَتِ سَبْقَان فَالْمُدَبَّرَاتِ أَمْرَاهُ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَبِذٍ وَاجِفَةٌ أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ یہ آیات جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے، ہم اب تک ان کے صرف ایک ہی مفہوم پرزور دیتے رہے ہیں۔حالانکہ ان کے اندر بعض اور مضامین بھی پائے جاتے ہیں۔گزشتہ مفسرین تو ان آیات کے یہ معنی کرتے رہے ہیں کہ اس جگہ فرشتوں کا ذکر ہے کیونکہ فرشتہ کے لیے مؤنث کا صیغہ استعمال کرتے ہیں اور یہاں چونکہ سارے صیغے مؤنث کے استعمال کیے گئے ہیں، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں فرشتوں کا ذکر ہے۔لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ آیات فرشتوں پر چسپاں ہی نہیں ہو سکتیں۔اس لئے کہ والنازعات غرقًا، ان میں ہے ہی نہیں۔غرفا کے معنی، اگر جسمانی غرق کے سمجھیں تو فرشتے کون سے تالاب میں غوطہ مارا کرتے ہیں؟ اور اگر اس کے معنی روحانی سمجھیں تو غرقا کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ علوم میں محو ہو کر نئے نئے نکتے نکالتے ہیں۔اور فرشتوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہیں جن باتوں کا علم دیا جانا ضروری تھا، اس کا انہیں شروع سے علم دے دیا گیا ہے۔اور جنہیں شروع سے علم دیا گیا ہو، انہوں نے محو کیا ہوتا ہے؟ ان کو محو ہونے کے بغیر ہی علم مل چکا ہے۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ میں خود فرشتے کہتے ہیں کہ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں، جتنا آپ نے ہمیں سکھایا ہے۔اور جو اتنا ہی جانتے ہیں، جتنا انہیں خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے۔انہیں فقہ اور دوسرے مسائل اور علوم میں غرق ہو کر نئے نئے نکتے نکالنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہیں تو خود خدا تعالیٰ نے سب کچھ سکھا دیا ہے۔پس یہ آیات فرشتوں پر صادق آہی نہیں سکتیں۔ہمارے نزدیک اس جگہ صحابہ کی جماعت کا ذکر ہے۔اور چونکہ جماعت کے لئے بھی مؤنث کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے والنازعات غرقاً کے معنی یہ ہوئے کہ ہم شہادت کے طور پر صحابہ کی 667