تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 55
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کہ معلوم دنیا کے ہر گوشہ میں بغیر جہاز یاستی پہنچا جا سکتا تھا اور ابال از خطبه جمعه فرموده 24 ستمبر 948 کے لئے روپیہ کہ ضرورت نہیں ہوتی تھی۔مگر اب پہلے زمانہ کے تمدن اور اس زمانہ کے تمدن میں بہت فرق پیدا ہو چکا ہے۔پھر اس زمانہ میں مہمان نوازی، انسانیت اور شرافت کا جزو سمجھی جاتی تھی۔اس زمانہ میں اگر کوئی شخص کسی گاؤں میں چلا جاتا تھا تو خواہ وہ کسی کا واقف ہو یا نہ ہو ، سارے گاؤں کے لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے تھے اور اسے کہتے تھے کہ تم ہمارے ہاں مہمان ٹھہرو۔جگہ جگہ سرا ئیں بنی ہوئیں تھیں۔جن میں مسافروں کی رہائش کا مفت انتظام ہوتا تھا۔کسی قسم کا خرچ نہیں آتا تھا۔اگر کوئی ایسا قصبہ ہوتا، جس کے رہنے والوں میں مہمان نوازی کا جذ بہ نسبتا کم ہوتا تو پھر بھی مسافر کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔قصبہ میں ایسی سرا ئیں بنی ہوئی ہوتی تھیں، جہاں چند آدمی بٹھائے ہوئے ہوتے تھے ، جو مسافر کی خدمت دو چار آنہ کے بدلے میں کر دیا کرتے تھے۔باقی سرائے کا کوئی خرچ نہیں ہوتا تھا۔اب بھی ہندوستان میں سڑک کے کناروں پر جگہ جگہ سرائیں بنی ہوئی نظر آتی ہیں۔گواب ویران ہیں۔ان میں سے بعض سرائیں امراء نے بنائی تھیں اور کچھ سرائیں خود حکومت نے بنائی تھی۔لیکن اب تو ایسا رواج ہو گیا ہے کہ جو کوئی دوسرے شہر میں جاتا ہے ، وہ ہوٹل میں ٹھہرتا ہے۔اور اس زمانہ میں معمولی سے معمولی اور ذلیل سے ذلیل ہوٹل بھی ایک روپیہ فی کس کرایہ کا ان سے لیتا ہے اور کھانے وغیرہ کے اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔پھر خوراکیں بھی بدل گئی ہیں۔پہلے زمانہ میں امیر سے امیر اور غریب سے غریب آدمی کی خوراک میں بہت کم فرق ہوتا تھا۔لیکن اب بہت زیادہ فرق ہے۔اس زمانہ میں ایک امیر سے امیر آدمی اور ایک غریب سے غریب آدمی بڑی آسانی کے ساتھ اکٹھا بیٹھ کر کھا سکتے تھے کیونکہ ان کی خوراکوں میں زیادہ فرق نہیں ہوتا تھا۔مگر اب تو ایک امیر آدمی معمولی آدمی کے ساتھ تو کیا ایک درمیانے درجے کے آدمی کے ساتھ بھی اکٹھا بیٹھ کر کھانا کھانے سے گریز کرتا ہے۔کیونکہ اس کی خوراک اس کے موافق نہیں۔غرض تمدن کے فرق کی وجہ سے، ذرائع نقل و حرکت کے فرق کی وجہ سے اور اس فرق کی وجہ سے کہ اس زمانہ میں آبادیاں اس طور پر تھیں کہ ان میں بغیر سواری کے سفر کیا جا سکتا تھا تبلیغ بغیر پیسہ کے ہو جاتی تھی۔مگر اب تبلیغ بغیر پیسہ کے نہیں ہو سکتی۔قربانی کرنے والے تو آگے آجائیں گے، جانیں پیش کرنے والے بھی مل جائیں گے۔لیکن یہ چیز اس وقت تک مفید نہیں ہو سکتی، جب تک جانی قربانی کے ساتھ مالی قربانی بھی پیش نہ کی جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فتح نو جوانوں سے ہی ہوتی ہے۔مگر جب تک پیسہ نہ ہو، ان کی قربانیوں سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔الفضل میں دوستوں نے پڑھا ہوگا کہ مجھے ایک غیر احمدی فوجی افسر نے چٹھی لکھی تھی۔جس 55