تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 54

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 ستمبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد سوم کرامیہ اور دیگر اخراجات کی ضرورت ہے۔اگر ہم اپنے مبلغوں کے لئے کسی سواری کا بندوبست نہ کر سکیں اور وہ وہاں پیدل جائیں تو لازماً وہ وہاں پانچ چھ مہینے میں پہنچیں گے۔وہ لوگ قربانی تو کریں گے ، اپنی جان پیش تو کر دیں گے مگر کیا وہ مقصد جو ان کے سامنے ہوگا، پورا ہو جائے گا ؟ کیا وہ بمبئی کے احمدیوں کی امداد کے قابل ہو سکیں گے؟ یہ تو یقینی بات ہے کہ اگر وہ پیدل جائیں تو وہ بمبئی میں اتنے عرصہ کے بعد پہنچیں گے کہ وہاں کے لوگوں کو اس فتنہ کی یاد بھی بھول چکی ہوگی۔وہ یہ جانتے بھی نہیں ہوں گے کہ یہ احمق یہاں کیوں آئے ہیں؟ یہاں ان کا کیا کام ہے؟ مولوی وہاں آئے اور چلے گئے۔اگر جماعت کو خدا تعالیٰ نے فتح دی ہوگی تو کچھ نئے لوگ جماعت میں شامل ہو چکے ہوں گے اور اگر فتح نہیں دی تو کچھ لگ مرتد ہو چکے ہوں گے۔اس وقت ہمارے مبلغ وہاں پہنچیں گے اور کہیں گے ، ہم غیر احمدی علماء سے بحث کرنے کے لئے آئے ہیں۔کیا ان کا وہاں ایسے وقت میں جانا جبکہ فتنہ کی یاد بھی بھول چکی ہوگی ، جماعت کے لئے کسی فائدہ کا موجب ہو سکتا ہے؟ غرض ہماری جماعت کے لئے صرف جانی قربانی ہی کافی نہیں۔بلکہ ہمارے لئے روپیہ کی بھی ضرورت ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ پہلے زمانے میں ایسا کیوں نہیں تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں دشمن بھی کسی جگہ اتنی جلدی نہیں پہنچ سکتا تھا۔جتنی دیر میں کسی جگہ پر پہنچنے میں لگ جاتی تھی ، اتنی دیر دشمن کو بھی لگ جاتی تھی۔اس زمانہ میں تو دشمن ہوائی جہاز ، ریل بالاری وغیرہ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اور ان چیزوں کی مدد سے جس جگہ چاہے جلد پہنچ سکتا ہے۔اگر ہمارا مبلغ پیدل جائے تو دشمن وہاں بہت عرصہ پہلے پہنچ چکا ہوگا۔پچھلے زمانہ میں اگر دشمن گھوڑے یا گدھے پر سوار ہو کر کسی جگہ پر پہنچتا تھا تو اس کے مقابلہ کے لئے دوسرے لوگ بھی گھوڑے یا گدھے پر سوار ہو کر اس جگہ پہنچ جاتے تھے۔پس پہلا زمانہ ایسا تھا کہ اس میں تبلیغ کرنے کے لئے زیادہ روپیہ کہ ضرورت نہیں ہوتی تھی۔اس زمانہ کے حالات ایسے تھے کہ سفر بغیر روپیہ کے ہوسکتا تھا۔مگر اس زمانہ میں سفر بغیر روپیہ کے نہیں ہوسکتا۔فرض کرو ہمارے کسی مبلغ نے افریقہ یا امریکہ جانا ہے تو اس کے لئے جہاز کے کرائے اور دوسرے اخراجات کی ضرورت ہوگی۔کوئی کہہ سکتا ہے لہ کیا پہلے زمانہ میں ایسا نہیں ہوتا تھا؟ ہم کہتے ہیں، پہلے تو امریکہ معلوم بھی نہیں تھا۔جتنی دنیا اس وقت معلوم تھی ، وہ بغیر سمندر کے تھے اور سفر کے لئے جہاز یا کشتی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔خشکی کا سفر پیدل یا گھوڑوں اور گدھوں وغیر پر ہوتا تھا۔لیکن اس زمانہ میں سفر کرنے والا بعض اوقات سمندر میں سفر کرنے پر مجبور ہوتا ہے، جس کے لئے اسے کرایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس زمانہ میں آبادی اور دنیا کا تمدن ایسا تھا 54