تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 661
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم وو اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 مئی 1957ء نئی مساجد کی تعمیر اور ان کی اہمیت خطبہ جمعہ فرمودہ 03 مئی 1957ء۔اس ہفتہ جو خبریں باہر سے آئی ہیں، ان میں سے بعض تو ابھی ایسی حالت میں ہیں کہ ان کے ذکر کرنے کا ابھی موقع نہیں آیا۔لیکن خوشخبریاں ایسی ہیں کہ ان کے ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔مشرقی افریقہ میں ہماری کچھ مساجد بنی ہیں۔میں نے شیخ مبارک احمد صاحب، رئیس التبلیغ کو ان کے فوٹو بھیجنے کے لئے لکھا تھا۔چنانچہ انہوں نے ان مساجد کے فو ٹو بھیج دیتے ہیں۔ان میں سے ایک مسجد ایسی ہے، جس کے متعلق مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ ساٹھ سال کی بنی ہوئی ہے۔جبکہ سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم وہاں رہتے تھے۔مگر معلوم نہیں، شیخ مبارک احمد صاحب کو کیا ہوا کہ اب تک انہوں نے اس کا فوٹو نہیں بھیجا تھا ؟ لکھنے پر انہوں نے اس کا فوٹو بھیجا ہے۔مساجد کے جو فوٹو مشرقی افریقہ سے آئے ہیں، ان میں سے ایک نیروبی کی مسجد کا ہے۔ایک مسجد ممباسہ میں بنی ہے، جس کا فوٹو ہے۔یہ مسجد ایک عورت نے بنوائی ہے، جو بیوہ ہے۔اس نے 60 ہزار روپیہ اس کی تعمیر کے لئے دیا ہے۔یہ عورت ہمارے سابق امیر کی ، جواب فوت ہو چکے ہیں، بیوہ ہے۔اس نے اپنی ساری پونچھی، جو اس کے خاوند نے اپنے بعد چھوڑی تھی ، اس سے ممباسہ میں مسجد بنوادی ہے۔چونکہ مسجد پر اس سے زیادہ رقم خرچ ہوئی تھی، اس لئے بعض اور احمدیوں نے بھی اپنا چندہ اس کی مد میں جمع کرایا اور بعض لوگوں نے قرضہ دے دیا۔اس طرح ممباسہ میں ایک بڑی عالی شان مسجد بن گئی۔پھر ان میں دار السلام کی مسجد کا فوٹو بھی ہے، جو نئی بنی ہے۔یہ مسجد بھی لوکل احمدیوں نے مقامی طور پر چندہ جمع کر کے بنوائی ہے۔یہ بہت ہی شاندار مسجد ہے۔فوٹو تا تا ہے کہ مسجد کے افتتاح کے موقع پر انگریز ، سکھ ، ہندو اور عیسائی لوگ اس کے صحن میں بیٹھے، شیخ مبارک احمد صاحب کی تقریرین رہے ہیں۔جس میں انہوں نے بتایا کہ ہم اس مسجد کا افتتاح کرتے ہیں تا کہ اس میں خدا تعالیٰ کا نام لیا جائے۔ہمارے مبلغ امری عبیدی، جو یہاں سے پڑھ کر گئے ہیں، وہ بھی وہاں موجود ہیں۔شیخ مبارک احمد صاحب بھی فوٹو میں ہیں۔مولوی محمد منور صاحب، مولوی محمد ابراہیم صاحب کمپالہ والے بھی ہیں۔غرض سارے مبلغ نظر آرہے ہیں۔جو 661