تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 662 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 662

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 مئی 1957ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم لوگ صحن میں بیٹھے ہوئے ہیں، فوٹو سے ان کی تعداد سینٹروں کی معلوم ہوتی ہے۔بہت سے لوگ تو کرسیوں پر بیٹھے ہیں اور بعض آدمی شوق سے زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور مسجد کی عمارت بڑی عالی شان نظر آرہی ہے۔کل ایک خبر یہ بھی آئی ہے کہ کمپالہ میں بھی ایک مسجد تیار کی جارہی ہے۔اس مسجد کے بننے میں دیر ہوئی تو میں نے مبلغ انچارج سے دریافت کیا تھا کہ یہ بنتی کیوں نہیں ؟ جس کے جواب میں انہوں نے یہ اطلاع بھجوائی ہے، وہاں گورنمنٹ نے ایک قطعہ زمین مسجد کی تعمیر کے لئے احمدیوں کو دیا تھا اور حسب قاعدہ گورنمنٹ نے رسمی طور پر اس کی قیمت بھی طلب کی تھی۔وہ قیمت احمدیوں نے ادا کر دی تھی۔لیکن اس کے بنانے میں دیر ہو گئی تو جماعت کے دوستوں نے مجھے لکھا کہ یہ ٹکڑ از مین کا اچھی قیمت پر بک سکتا ہے، اگر اجازت دیں تو اس کو بیچ کر کوئی اور قطعہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔میں نے کہا، فروخت کر دو اور اس کی قیمت سے اور زمین لے کر مسجد بنالو۔اب انہوں نے اطلاع دی ہے کہ مسجد کے لئے زمین مل گئی ہے اور نقشہ بنا کر پیش کر دیا گیا ہے۔منظوری کے بعد مسجد کی تعمیر شروع کر دی جائے گی۔یہ مسجد ملا کر مشرقی افریقہ میں چار مشہور شہروں میں چار بڑی مساجد ہو جاتی ہیں۔نیروبی میں ایک ممباسہ میں ایک، دار السلام میں ایک کمپالہ میں ایک ، ان کے علاوہ کئی اور چھوٹی چھوٹی مساجد بھی ہیں۔ویسٹ افریقہ میں بھی ہماری کئی مساجد ہیں۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہاں شاندار مساجد بنانے کا رواج نہیں۔البتہ سالٹ پانڈ میں جہاں ہمارا گولڈ کوسٹ کا انچارج مبلغ رہتا ہے، ہماری جو مسجد ہے، وہ بہت بڑی اور شاندار ہے۔ملک کا وزیر اعظم اس کے افتتاح کی تقریب میں آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ جس قلیل رقم میں احمدیوں نے یہ مسجد بنالی ہے ، گورنمنٹ بھی نہیں بنا سکتی۔اور ایسی شاندار مسجد ہمارے سارے ملک میں کوئی نہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے مبلغوں نے خود پاس کھڑے ہو کر کام کی نگرانی کی تھی اور مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کیا تھا اور ان سے کام کروایا تھا۔جس کی وجہ سے وہ مسجد بہت تھوڑی رقم میں بن گئی۔اب بعض اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ سیرالیون میں بھی بعض جگہوں پر مساجد بن رہی ہیں۔امریکہ سے بھی اطلاع آئی ہے کہ وہاں غالباً ڈیٹرائٹ میں ایک مسجد بن رہی ہے۔وہاں کوئی نو مسلم جوڑا تھا، انہوں نے اس مسجد کے لئے اپنی زمین دی تھی اور کچھ جائیداد بھی دی تھی کہ اسے فروخت کر کے مسجد کی تعمیر کر لی جائے۔کل اطلاع آئی ہے کہ یہ مسجد تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔وو بہر حال جماعتوں میں مسجدیں بنانے کی طرف توجہ ہورہی ہے اور غیر ملک تو بڑی جلدی جلدی آگے بڑھ رہے ہیں۔لیکن پاکستان اس کام میں ذرا پیچھے ہے۔پاکستان بیرونی ممالک میں تو بعض 662