تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 652
اقتباس از تقریر فرموده 29 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم میں ایک اہم مضمون لکھا تھا، جس پر امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ نے انہیں مبارکباد دی اور لکھا کہ میں نے اب تک جرمن کے کسی رسالہ میں اتنا قیمتی مضمون نہیں پڑھا۔وہ پروفیسر جرمن میں میری آمد کی خبرسن کر مجھے ملنے کے لئے آ گیا اور کہنے لگا، میں نے آپ سے بعض مخفی با تیں کرنی ہیں ، آپ اپنے سیکرٹری اور دوسرے ساتھیوں کو ذرا کمرہ سے باہر بھیج دیں۔چنانچہ میں نے اپنے سیکرٹری اور دوسرے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کچھ دیر کے لئے کمرہ سے باہر چلے جائیں۔جب وہ کمرہ سے باہر چلے گئے تو اس نے کہا، میں آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ اسے فی الحال مخفی رکھا جائے۔میں نے کہا کہ بہت اچھا، بیعت کے مخفی رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔چنانچہ اس نے بیعت کر لی۔جب نماز کا وقت آیا تو میں اس کمرہ میں گیا، جو نماز کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ وہ پروفیسر بھی مقتدیوں میں بیٹھا ہوا ہے۔میں نے اپنے مبلغ کو پاس بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ تم نے تو اپنی بیعت کو مخفی رکھنے کے لئے کہا تھا اور اب خود ہی نماز میں شامل ہو گئے ہو۔اب تمہاری بیعت مخفی کس طرح رہ سکتی ہے؟ مبلغ نے دریافت کیا تو وہ کہنے لگا کہ بے شک میں نے اپنی بیعت مخفی رکھنے کی درخواست کی تھی لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ شاید خدا تعالیٰ انہیں میری خاطر ہی جرمن میں لایا ہے ، پھر نہ معلوم یہ موقع نصیب ہو یا نہ ہو۔اس لئے میں نے کہا کہ آپ کی اقتداء میں چند نمازیں تو پڑھ لوں۔اب خط آیا ہے کہ وہ دو، تین ماہ کے لئے ربوہ آکر دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس طرح انگلینڈ سے بھی خوش کن خبریں آرہی ہیں۔وہاں ہمارا مشن دیر سے قائم ہے لیکن اب وہاں کی یونیورسٹیاں بھی ہمارے مبلغ کو اپنے ہاں بلاتی اور اسلام پر لیکچر کراتی ہیں۔وہاں کے مبلغ نے اطلاع دی ہے کہ اب وہ لیکچر کے لئے گلاسکو جار ہے ہیں۔اس طرح انہوں نے لکھا ہے کہ میں ایک اور یونیورسٹی میں لیکچر دینے گیا، اس یونیورسٹی میں ہماری بہت مخالفت کی جاتی تھی لیکن جب میں وہاں گیا تو ہال بھرا ہوا تھا۔بعض لوگوں نے مجھے بتایا کہ جب لیکچر کا اعلان ہوا تو یہودیوں نے بڑی مخالفت کی اور اعلان کیا کہ اس لیکچر میں کوئی نہ جائے۔ہم نے کہا کہ اگر یہودی اس لیکچر کی مخالفت کرتے ہیں تو ہم ضرور جائیں گے۔اب اطلاع آئی ہے کہ کسی اور یونیورسٹی نے بھی انہیں اپنے ہاں لیکچر کے لئے بلایا ہے۔غرض وہاں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اب ایک رو پیدا ہوگئی ہے اور اچھے اچھے خاندانوں میں احمدیت کی تبلیغ ہورہی ہے۔احمدیت کے غلبہ کا وقت جب آئے گا، آئے گا۔لیکن اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔دیکھ لو، یہاں الیکشن میں کوئی احمدی کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہار جاتا 652