تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 653
اقتباس از تقریر فرموده 29 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہے۔پچھلے الیکشن میں احرار نے اعلان کیا تھا کہ ہماری مخالفت کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ انتخاب میں ایک بھی احمدی کامیاب نہیں ہو سکا۔لیکن چند دن ہوئے میرے پاس ایک ایم۔ایل۔اے آئے۔میں نے ان کے نام کے آگے ایم۔ایل۔اے کا لفظ دیکھ کر دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے بتایا، میں اسمبلی کا ممبر ہوں۔میں نے کہا، الیکشن تو شورش میں ہوئے تھے ، پھر آپ کیسے ایم۔ایل۔اے بن گئے؟ کیا آپ کے علاقہ میں مولوی نہیں گئے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں بھی مولوی گئے تھے اور انہوں نے میرے خلاف پروپیگنڈا بھی کیا تھا لیکن میری قوم کے لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ شخص کا فر ہے تو کافر ہی سہی، ہماری قوم کا فرد تو ہے، ہم بہر حال اسے ووٹ دیں گے۔سیلون سے بھی خط آیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ایسے طبقہ سے بھی بعض لوگ احمدیت قبول کر رہے ہیں، جن کے متعلق امید ہے کہ وہ اپنے ملک کی اسمبلی کے الیکشن میں کامیاب ہو جائیں گے۔مغربی افریقہ میں بھی ہمارے چار دوست وہاں کی اسمبلی کے ممبر ہیں۔بہر حال اگر پاکستان میں ہماری جماعت کے دوستوں کے لئے مشکلات ہیں اور وہ اسمبلی کے انتخاب میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو باہر کے ممالک میں ہمارے غلبہ کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تم اپنے کام کو دیانت داری سے کرو اور اپنی زمینوں کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کرو۔وہ دن قریب آرہے ہیں، جب خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے لئے کامیابی کے راستے کھول دے گا“۔رپورٹ مجلس شور می منعقدہ 29 تا 31 مارچ 1956ء) 653