تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 648
خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم میں حضرت عیسی علیہ السلام پر میں حملے کروں گا۔چنانچہ وہ اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا، میں حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتا۔تو یہ لوگ اس وقت تک فراتے ہیں، جب تک ان کے سامنے تلوار نہیں اٹھائی جاتی۔یعنی ان کے مذہب پر حملہ کیا جائے اور اس کے پول کھولے جائیں تو یہ لوگ مقابلہ نہیں کر سکتے اور بھاگ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے پادریوں کی مجالس نے حکم دیا ہوا ہے کہ عیسائی مشنری احمدیوں سے بات نہ کیا کریں۔کیونکہ احمدی الزامی جواب دیتے ہیں اور ہمارے لئے مشکل پیش آجاتی ہے۔گرمیوں میں جب میں مری تھا تو وہاں پادری آئے اور انہوں نے اسلام پر اعتراضات شروع کر دیئے۔میرا ایک لڑکا ان سے بحث کے لئے چلا گیا اور ہمارا مبلغ بھی وہاں پہنچ گیا۔چند دن کی گفتگو کے بعد ہی پادریوں نے کہ دیا، ہم آئندہ آپ سے کوئی بحث نہیں کریں گے۔غرض احمدیوں کے پہنچتے ہی انہیں چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔پس انشاء اللہ تعالیٰ جب یہ کتاب نکل آئے گی تو پھر پتہ لگے گا کہ اسلام کا حملہ صرف سویز میں ہی نہیں بلکہ ہر ملک میں غالب ہوتا ہے۔اور عیسائیوں، پنڈتوں اور اسلام کے دوسرے دشمنوں کی مجال نہیں کہ وہ اسلام پر حملہ کریں اور پھر اس میں فتح حاصل کریں۔اگر وہ اسلام پر حملہ کریں گے تو ان کے گھر کے پول ایسے کھولے جائیں گے کہ وہ اپنے گھروں میں گھس کر بھی بیٹھ نہیں سکیں گے۔بلکہ انہیں اپنے گھروں کے دروازے بند کرنے پڑیں گے۔ان کی تمام بہادری رفو چکر ہو جائے گی اور ان کی شان و شوکت ذلت اور رسوائی سے بدل جائے گی۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ کام بھی ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہے گا تو جلد پورا ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے خوشیوں کے دن مقدر کر رکھے ہیں۔لیکن ان خوشیوں کے دنوں کو زیادہ قریب لانے کے لئے تمہیں زیادہ سے زیادہ قربانی کرنی چاہئے۔تا کہ جلد سے جلد ہماری فتح کے دن آئیں اور دشمن روسیاہ ہو اور اسلام کے مقابلہ میں وہ اس طرح دم دبا کر بھاگے، جیسے گدھا شیر کے آگے بھاگتا ہے۔اسلام شیر ہے اور عیسائیت اور دوسرے مذاہب کی مثال گدھے کی سی ہے۔جس طرح وہ شخص، جو شیر پرحملہ کرتا ہے، وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو لیتا ہے، اسی طرح جو مذہب اسلام پر حملہ کرے گا، اس پر اسلام شیر کی طرح حملہ کرے گا اور وہ گدھوں کی طرح بھاگ جائے گا۔شیر کی یہ عادت ہے کہ وہ خود حملہ نہیں کرتا۔مشہور ہے کہ شیر کے سامنے کوئی آدمی آجائے اور وہ لیٹ جائے تو شیر آگے گزر جاتا ہے اور اسے کچھ 648