تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 646
خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم ہندوؤں کے لئے الگ کتاب لکھو اور عیسائیوں کے لئے الگ لکھو۔عیسائیوں کے لئے اس لئے لکھو کہ کتاب کا اصل لکھنے والا امریکہ کا رہنے والا تھا۔اور ہندوؤں کے لئے اس لئے لکھو کہ اس کا اردو میں ترجمہ کر کے شائع کرنے والا ہندو ہے۔اور ضروری ہے کہ ہندوؤں میں اس کے پھیلائے ہوئے زہر کا ازالہ کیا جائے۔پس میں نے انہیں ہدایت دی ہے کہ تم ایک کتاب ایسی لکھو، جس کے ایک حصہ میں اسلام پر کئے جانے والے اعتراضات کا تحقیقی جواب ہو اور دوسرے حصہ میں عیسائیت کے متعلق الزامی جواب ہو۔اسی طرح ایک دوسری کتاب لکھو، جس کے ایک حصہ میں اعتراضات کے تحقیقی جوابات ہوں اور دوسرے حصہ میں ہندو مذہب کو مخاطب کر کے ان کے الزامی جوابات ہوں۔سوتار بھی آئی ہے اور خط بھی آگیا ہے کہ کتاب لکھی جارہی ہے، جو عنقریب شائع ہو جائے گی اور پھر اس کا ترجمہ اردو زبان میں شائع کر دیا جائے گا۔یہ جواب گالیاں دینے اور شور مچانے سے زیادہ مؤثر ہوگا۔جب یہ جواب امریکہ میں شائع ہوگا اور جب اس کا ترجمہ ہندوستان میں شائع ہو گا تو عیسائیوں کو بھی پتہ لگ جائے گا اور ہندوؤں کو بھی پتہ لگ جائے گا کہ شیش محل میں بیٹھ کر پتھر مارنا بڑا نقصان دہ ہوتا ہے۔دیکھو، انگریزوں اور فرانسیسیوں نے سمجھا کہ مصر ہم سے چھوٹا ہے، اس لئے وہ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔چنانچہ انہوں نے اسرائیل سے مل کر مصر پر حملہ کر دیا۔اپنے خیال میں تو انہوں نے یہ سمجھا تھا کہ مصر ہمارا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟ لیکن ان کے حملہ کرنے کی وجہ سے امریکہ نے جوان کا پرانا دوست ہے، ساتھ چھوڑ دیا اور دوسری طرف روس نے کہا کہ اگر تم نے مصر سے اپنی فوجیں نہ نکالیں تو ہم بھی اپنی فوجیں مصر میں داخل کر دیں گے۔ادھر روس نے شام میں ہوائی جہازوں سے اپنی فوجیں اتارنی شروع کیں اور ادھر انگریز بھاگنے شروع ہوئے۔گویا ان کی مثال بالکل اس چور کی سی ہوئی ، جو کسی گھر میں چوری کر رہا ہولیکن جب پولیس آئے تو وہ بھاگنا شروع کر دے۔انگریز اور فرانسیسی بڑے غرور کے ساتھ مصر میں داخل ہوئے اور امریکنوں کو انہوں نے دھمکی دی کہ ہم نے مصر میں بہر حال لڑنا ہے۔ہمارے حقوق ہیں، جن کی ہم نے حفاظت کرنی ہے۔اس لئے ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے۔لیکن جونہی چند روسی جہاز شام میں اترے، وہ وہاں سے بھاگنا شروع ہوئے۔پھر ادھر امریکہ کی ہمدردی بھی جاتی رہی، پاکستان بھی مخالف ہو گیا اور دوسرے اسلامی ممالک بھی مخالف ہو گئے۔غرض ادھر روس کے چند جہاز اترے تو وہ فرانسیسی اور انگریز ، جو ڈھول بجاتے ہوئے مصر میں داخل ہوئے تھے، وہ نقارے بجاتے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔اور سارا رعب جوان کا دنیا پر چھایا ہوا تھا ، مٹ گیا۔اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ روس کے چند جہازوں سے انگریز 646